رسائی کے لنکس

دوہری شہریت: حلف نامے کی ڈیڈ لائن میں توسیع


 (فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

الیکشن کمیشن نے 30 نومبر کی ڈیڈ لائن اُن 228 قانون سازوں کے لیے مقرر کی ہے جنہوں نے اب تک دوہری شہریت سے متعلق اپنے بیانات حلفی جمع نہیں کروائے۔

پاکستان کے الیکشن کمیشن نے دوہری شہریت نا رکھنے سے متعلق قانون سازوں کو اپنے بیانات حلفی جمع کرنے کی مدت میں 21 دن توسیع کر دی ہے۔

یہ فیصلہ کمیشن کے سربراہ فخرالدین جی ابراہیم کی صدارت میں پیر کو ہونے والے ایک خصوصی اجلاس میں اراکین پارلیمان کی طرف بیان حلفی جمع کرنے کی ’ڈیڈ لائن‘ کو 30 نومبر تک بڑھانے کی تحریری درخواست پر کیا گیا۔

الیکشن کمیشن کے ترجمان افضل خان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اب 30 نومبر کی ڈیڈ لائن نہ صرف اُن 228 قانون سازوں کے لیے مقرر کی گئی ہیں جنہوں نے اب تک اپنے بیانات حلفی جمع نہیں کروائے بلکہ اس تاریخ تک وہ ممبران بھی وضاحت کریں گے جنہوں نے غیر تصدیق شدہ حلف نامے جمع کرائے ہیں۔

’’غیر تصدیق شدہ بیان حلفی قابل قبول نہیں اور اب ہم انہیں چٹھی لکھ رہے ہیں تاکہ وہ 30 نومبر تک تصدیق شدہ دستاویزات جمع کرائیں۔‘‘

پاکستان کے آئین کے مطابق دوہری شہریت کا حامل کوئی بھی پاکستانی پارلیمان کا رکن نہیں بن سکتا۔

الیکشن کمیشن نے گزشتہ ماہ سپریم کورٹ کی ہدایت پر مرکز اور صوبوں میں 1170 قانون سازوں کو 9 نومبر تک کمیشن کے پاس یہ بیان حلفی جمع کرانے کے لیے کہا تھا کہ وہ صرف اور صرف پاکستانی شہری ہیں۔

سپریم کورٹ نے اس سے قبل گیارہ ارکان پارلیمان کو بیک وقت پاکستان اور کسی دوسرے ملک کی شہریت رکھنے پر نا اہل قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف قانونی کارروائی کا حکم دیا تھا۔

سپریم کورٹ میں اراکین پارلیمان کی دوہری شہریت کا معاملہ اٹھائے جانے کے بعد حکمران پیپلز پارٹی نے پارلیمان میں قانون سازی کے ذریعے یہ پابندی ختم کرنے کی کوشش کی مگر اپوزیشن اور بعض اتحادی جماعتوں کی طرف سے شدید مخالفت نے اُسے ایسا کرنے سے باز رکھا۔
XS
SM
MD
LG