رسائی کے لنکس

تیل کی قیمتوں میں اضافے، سلامتی سے متعلق خدشات اور ملک میں آنے والے سیلابوں کے باعث 2011ء پاکستانی معیشت کے لیے ایک مشکل سال ثابت ہوا۔

اقتصادی و سماجی صورت حال پر اپنی سالانہ رپورٹ میں اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ 2011ء پاکستانی معیشت کے لیے ایک مشکل سال ثابت ہوا جو ملک میں غربت اور مہنگائی میں اضافے کا سبب بنا۔

جمعرات کو اسلام آباد میں جاری کی گئی عالمی تنظیم کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافے، اندرون ملک سلامتی سے متعلق خدشات اور ملک میں آنے والے سیلابوں کے باعث اقتصادی ترقی سست روی کا شکار رہی۔

اس جائزہ رپورٹ کے مصنفین میں پاکستانی ماہر معاشیات ڈاکٹر اشفاق حسن خان بھی شامل ہیں جنہوں نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ خاص طور پر توانائی کے شدید بحران کے باعث بھی پاکستان میں صنعتی پیداوار بری طرح متاثر ہوئی۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان میں ہر سال 20 لاکھ نوجوان اپنی تعلیم مکمل کر کے روزگار کی تلاش شروع کرتے ہیں لیکن ان کے بقول ان تمام افراد کو نوکریاں فراہم کرنے کے لیے شرح نمو میں اضافے کی ضرورت ہے۔

’’کم از کم سات سے آٹھ فیصد کی اوسط سے اگر (پاکستانی) معیشت ترقی کرے تو ہر سال یہ نوجوان ہر سال روزگار کے حصول کے لیے آتے ہیں انھیں نوکریاں ملتی رہیں گی۔‘‘

ڈاکٹر اشفاق حسن خان رپورٹ کے اجرا کے موقع پر

ڈاکٹر اشفاق حسن خان رپورٹ کے اجرا کے موقع پر

اشفاق حسن خان نے بتایا کے اگر نئے لوگوں کو نوکریاں نہیں ملیں گی تو اس سے نا صرف بے روزگاری کی شرح میں اضافہ ہو گا بلکہ ان کے بقول نوجوانوں میں اضطراب بھی بڑھے گا۔

اُنھوں نے بتایا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی طرف سے سال 2011ء کے دوران 11 ارب 20 کروڑ ڈالر زرمبادلہ کی صورت میں وطن بھیجے گئے جب کہ برآمدات میں 29 فیصد سے زائد اضافہ بھی ہوا جس سے کمزور ملکی معیشت کو ڈھارس ملی۔

اقوام متحدہ کی جائزہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں افراط زر کی شرح 14 فیصد جب کہ معیشت کی شرح نمو محض 3.9 فیصد رہی اور آئندہ سال بھی اس میں کسی خاص اضافے کی توقع نہیں ہے۔

اس سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت پاکستان کو بجٹ خسارے پر قابو پانے میں مشکلات کا سامنا ہے اور اس خسارے کی وجوہات میں سلامتی کی صورت حال کو بہتر بنانے پر اٹھنے والے اخراجات اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات بھی شامل ہیں۔

ملک کو درپیش اقتصادی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے رپورٹ میں پیش کی گئی تجاویز میں کہا گیا کہ توانائی کی بحران پر فوری اقدامات کی ضرورت ہے جن میں بجلی کی پیداوار بڑھانے کے قابل عمل منصوبوں کے علاوہ توانائی کے زیاں کو روکنا بھی شامل ہے۔

اقوام متحدہ کی پاکستان میں ایک ترجمان عشرت رضوی نے بتایا کہ پاکستانی معیشت کے بارے میں اعداد و شمار جمع کرتے وقت متعلقہ وزارتوں اور اقتصادی امور کے مقامی ماہرین سے بھی مشاورت کا عمل سارا سال جاری رہتا ہے۔

XS
SM
MD
LG