رسائی کے لنکس

سابق فوجی محمد حسین کو فوج کی ایک عدالت نے 2009ء میں موت کی سزا سنائی تھی جس پر جمعرات کو میانوالی جیل میں عمل درآمد کیا گیا۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں جمعرات کو ایک سابق فوجی اہلکار محمد حسین کو پھانسی دے دی گئی۔

سابق فوجی محمد حسین نے اپنے ایک افسر کو قتل کیا تھا اور اُسے فوج کی ایک عدالت نے 2009ء میں موت کی سزا سنائی تھی۔

پولیس حکام کے مطابق جمعرات کی صبح فوجی حکام اور ضلعی عدالت کے نمائندوں کی موجودگی میں محمد حسین کو میانوالی جیل میں پھانسی دی گئی۔

میانوالی جیل کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ منشا سندھو نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ صدر آصف
علی زرداری اور فوج کے سربراہ نے محمد حسین کی رحم کی اپیل کو مسترد کر دیا تھا جس کے بعد اس کی سزا پر عمل درآمد کیا گیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی نے 2008ء میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے موت کی سزا پر عمل درآمد غیر اعلانیہ طور پر معطل کر رکھا ہے۔

لیکن میانوالی جیل کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ نے جمعرات کو دی جانے والی سزا کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ’’دہشت گردی ایکٹ یا کورٹ مارشل (فوجی عدالتوں) سے جو سزائیں سنائی جاتی ہیں ان پر عمومی حکم امتناہی لاگو نہیں ہوتا۔ اس کے لیے مخصوص حکم امتناہی کی ضرورت ہوتی ہے۔‘‘

لیکن سابق فوجی اہلکار کو پھانسی دینے پر انسانی حقوق کی تنظیمیں اور قانون ساز سراپا احتجاج ہیں۔ جب کہ فرانس کے وزارت خارجہ کے ترجمان نے بھی پھانسی دینے کی مذمت کی ہے۔

قومی اسمبلی کی انسانی حقوق کمیٹی کے چیئرمین ریاض فتیانہ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ آئین ترجیحی سلوک کی اجازت نہیں دیتا اور محمد حسین کو پھانسی دینے پر بظاہر اس کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔

’’آئین تفریق کی اجازت نہیں دیتا، حکومت نے جو فیصلہ کیا وہ سب پر یکساں لاگو ہوتا ہے چاہے کسی بھی عدالت کی طرف سے سزا سنائی گئی ہو۔‘‘

ریاض فتیانہ نے کہا کہ وہ اس معاملے کو پارلیمان کی قائمہ کمیٹی میں بھی اٹھائیں گے۔

ملک کی جیلوں میں سزائے موت پانے والے 8,000 سے زائد قیدی اپنی سزاؤں پر عمل درآمد کے منتظر ہیں۔

حکمران پیپلز پارٹی نے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کے لیے مجوزہ قانون سازی کے لیے ایک مہم بھی شروع کر رکھی ہے اور اس ضمن میں صوبوں سے تجاویز بھی مانگی گئی ہیں۔

لیکن انسانی حقوق کے لیے سرگرم کارکن لیاقت بنوری اور رکن قومی اسمبلی ریاض فتیانہ کہتے ہیں کہ مذہبی جماعتوں کی جانب سے مخالفت کے باعث سزائے موت کو عمر قید میں بدلنے کی مہم میں پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔

بعض قانونی ماہرین بھی ملک میں سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے پر تحفظات کا اظہار بھی کر چکے ہیں۔ اُن کے خیال میں پاکستان کے موجودہ حالات کے تناظر میں سزائے موت کا خاتمہ دہشت گردی اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث عناصر کی حوصلہ افزائی کرے گا۔
XS
SM
MD
LG