رسائی کے لنکس

سیلاب زدگان کی مدد میں پس وپیش کیوں؟


سوات میں سیلاب سے تباہ ہونے والے ایک پل کا منظر

سوات میں سیلاب سے تباہ ہونے والے ایک پل کا منظر

خیبر پختون خواہ سے لے کر سندھ کے شہر سکھر تک کوئی ایسا علاقہ نہیں جہاں سیلاب کی تباہ کاریوں کا اثر نہ ہوا ہو۔ غیر جانبدار جائزوں کے مطابق اس آفت نے ایک تہائی پاکستانیوں کو متاثر کیا ہے۔ ہر طرف بے سرومانی ہے اور راتوں رات گھر سے بے گھرہونے والے لاکھوں لوگ کھلے آسمان تلے مدد کے منتظرہیں۔

گزشتہ کئی سالوں سے جاری سیاسی، سماجی، اقتصادی یہاں تک کہ اخلاقی بحرانوں جیسے گرداب میں پھنسے رہنے کے بعداب پاکستان سیلابی ریلے کے باعث اپنی تاریخ کے سب سے بڑے اور بدترین بحران سے گزر رہا ہے۔

خیبر پختون خواہ سے لے کر سندھ کے شہر سکھر تک کوئی ایسا علاقہ نہیں جہاں سیلاب کی تباہ کاریوں کا اثر نہ ہوا ہو۔ غیر جانبدار جائزوں کے مطابق اس آفت نے ایک تہائی پاکستانیوں کو متاثر کیا ہے۔ ہر طرف بے سروسامانی ہے اور راتوں رات گھر سے بے گھرہونے والے لاکھوں لوگ کھلے آسمان تلے مدد کے منتظرہیں۔

مگر جو سوال اکثر پاکستانی پوچھ رہے ہیں وہ یہ کہ 2005ء جیسے ہولناک زلزلے میں تباہ ہونے والے خاندانوں کی مدد کے لیے تندہی سے آگے بڑھنے والے ادارے اور لوگ اب سیلاب زدگان کی مدد کے لیے پیچھے کیوں ہیں؟

عبدالستار ایدھی پاکستان کی سب سے بڑی سماجی تنظیم ایدھی فاوٴنڈیشن کے سربراہ ہیں۔ ان دنوں وہ بذاتِ خود صوبہ خیبر پختون خواہ میں سیلاب کے متاثرین کی مدد میں مصروف ہیں۔ وائس آف امریکہ سے ایک انٹرویو میں اُنھوں نے بھی اعتراف کیا ہے کہ جو لوگ جوق در جوق زلزلہ زدگان کی مدد کے لیے ملک کے ہر حصے سے نکلے تھے اب ان میں وہ جوش دکھائی نہیں دے رہا۔ ایدھی کے بقول اس کی وجہ یہ نہیں کہ لوگ ایک دوسرے کی مدد کرنا نہیں چاہتے لیکن مسلسل بڑھتی مہنگائی نے لوگوں کی کمر توڑ دی ہے۔

عبدالستار ایدھی (فائل فوٹو)

عبدالستار ایدھی (فائل فوٹو)

”میں نے دنیا بھر میں آفت زدہ علاقوں میں کام کیا ہے لیکن آج تک اتنے بڑے پیمانے پر تباہی نہیں دیکھی۔ یہ دنیا کی سو سالہ تاریح کا سب سے بڑا سیلابی ریلہ ہے۔ زلزلے میں دبی چیز کو کھود کر واپس نکالا جاسکتا ہے لیکن سیلاب سب کچھ بہا لے جاتا ہے۔“

اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سیلاب سے ہونے والی تباہی پچھلے چھ سالوں میں دنیا بھر میں قدرتی آفات سے ہونے والی مجموعی تباہی سے بھی زیادہ ہے۔ سال 2004 ء میں آنے والے سونامی سے 50لاکھ افراد متاثر ہوئے ، 2005 ء میں ملک کے شمال مغربی حصوں میں زلزلے سے 30 لاکھ افراد متاثر ہوئے تھے اور 2010 ء میں جو زلزلہ ہیٹی میں آیا اس کے متاثرین کی تعداد بھی 30 لاکھ کے قریب تھی۔

لیکن پاکستان میں جاری اس تباہ کن سیلابی ریلے سے اب تک ایک کروڑ40 لاکھ افراد متاثر ہوچکے ہیں اور یہ سلسلہ ابھی جاری ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

پاکستان میں اس بحران سے نمٹنے اور اس کارِخیر میں عام لوگوں کو شامل کرنے کے لیے جہاں وفاقی اور صوبائی سطح پر مختلف فنڈز قائم کیے گئے ہیں وہاں سیاسی اور دینی جماعتیں بھی انفرادی سطح پر لوگوں سے فنڈز کی اپیل کر رہی ہیں لیکن یہ سب مل کر بھی عام لوگوں کو متحرک کرنے میں ناکام دکھائی دے رہے ہیں۔

ناقدین کے بقول شاید لوگوں کو نقصانات کا اندازہ نہیں یا پھر لوگوں میں حکومتی اداروں پر اعتماد کا فقدان بڑھ گیا ہے اوراُنھیں شک ہے کہ ان کا پیسہ سیلاب زدگان تک پہنچنے سے پہلے ہی کہیں پہلے سے بھری تجوریوں میں ہی نہ چلا جائے۔

غیر سرکاری بین الاقوامی تنظیم ایشیائی انسانی حقوق کمیشن یا ”اے ایچ آر سی“ نے اپنے حالیہ بیان میں کچھ ایسے ہی خدشات کا اظہار کیا ہے ۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ سیلاب سے تباہ ہونے والے بنیادی ڈھانچے خصوصاً مواصلات کے نظام کو عالمی امداد اور عطیات کی مدد سے بحال کیا جائے گا جس سے ”حکومت اور سرکاری اداروں میں موجود بے ایمان افراد کو بد عنوانی “کا ایک اور موقع ملے گا۔

معروف پاکستانی فلمی اداکارہ ریشم نے بھی وائس آف امریکہ کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ جو لوگ انفرادی طور پر سیلاب زدگان کی مدد کرنا چاہتے ہیں وہ پریشانی کا شکار ہیں کیوں کہ حکومت کی جانب سے امدادی سرگرمیوں کے حوالے سے کوئی منظم حکمت عملی سامنے نہیں آئی ہے۔ ”حکومت کو چاہیئے کہ مختلف شہروں میں ایسے مراکز بنائے جائیں جہاں لوگ امداد جمع کرا سکیں اور ان کو یقین دلایا جائے کہ ان کی امداد مستحقین تک پہنچے گی۔“

انھوں نے بھی کھل کر اِ ن تحفظات کا اظہار کیا ہے کہ حکومت اور سرکاری اداروں کی طرف سے قائم کیے جانے والے فنڈز میں موصول ہونے والی رقوم متاثرین تک نہیں پہنچتیں ۔

ناقدین کے مطابق حکومت کی امدادی کارروائیوں میں نااہلی نے متنازع مذہبی اور غیر سرکاری تنظیموں کو ایک بار پھر یہ موقع فراہم کیا ہے کہ وہ انسانی بنیادوں پر امدادی و فلاحی سرگرمیوں کے ذریعے عوام میں مقبولیت حاصل کر لیں۔

صوبہ خیبر پختون خواہ کے کئی علاقوں سے ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جہاں شدت پسند تنظیموں سے مبینہ تعلق رکھنے والی تنظیموں کے ارکان سیلاب زدگان کی مدد کر رہے ہیں اور متاثرین ان کو اپنا ہیرو قراردے رہے ہیں۔

عبدالستار ایدھی کہتے ہیں کہ وہ خوش قسمت ہیں کہ ان حالات میں بھی لوگ ان پر اعتماد کرتے ہیں اور اپنی امداد انھیں دیتے ہیں۔” میں آپ کو بتاوٴں صرف کراچی میں ابتدائی 15 دنوں کے دوران دوکڑور روپے جمع ہوئے ہیں اور یہ سب تنخواہ دار اور عام لوگوں کی طرف سے ہے اس میں کوئی بزنس مین شامل نہیں۔“

انھوں نے کہا کہ انھیں یقین ہے کہ اگر وہ صرف لاہور کی فٹ پاتھ پر چار پانچ گھنٹے کے لیے کھڑے ہوجائیں تو چار سے پانچ کروڑ روپے جمع کر سکتے ہیں ۔ ’ ’بڑی شرم کی بات ہے کہ ہم مدد کے لیے باہر کے ملکوں کی جانب دیکھ رہے ہیں۔ اگرحکومت صرف ٹیکسوں اور زکوٰ ة کے نظام کو ہی درست کر لے تو ہمیں باہر کسی سے بھیک نہ مانگنی پڑے۔ واضح رہے کہ ایدھی فاوٴنڈیشن کے پاس سالانہ تین ارب روپے کی امدادی رقم جمع ہوتی ہے۔

عبدالستار ایدھی کا کہنا ہے کہ اس وقت ان کے کارکن اور ایمبولینسیں خیبر پختون خواہ سے لے کر سندھ تک سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں 24 گھنٹے لاکھوں سیلاب زدگان کی مدد اور دن رات ان تک خوراک اور ضروری سامان پہنچا رہے ہیں ۔

یہ سب عزتِ نفس رکھنے والے لوگ ہیں اور یہ ان پر وقتی آفت ہے جو کل کسی اور پر بھی آسکتی ہے۔ اس لیے میری لوگوں سے اپیل ہے کہ یہ رمضان کا مہینہ ہے لوگ انسانیت کے لیے باہر نکلیں اور ان پریشان حال لوگوں کی مدد کریں۔ “

XS
SM
MD
LG