رسائی کے لنکس

پہلے پروگرام میں وائس آف امریکہ واشنگٹن سے تازہ خبریں اور فیچر جب کہ پاکستان کے ایک نجی ریڈیو نیوز نیٹ ورک (آر این این) نے صحت، طرز زندگی اور سماجی موضوعات پر رپورٹس شامل کی گئیں۔

وائس آف امریکہ اور پاکستان کے ایک نجی ریڈیو نیوز نیٹ ورک (آر این این) کی 60 منٹ دورانیے کی مشترکہ پیشکش ’’صدائے جہاں‘‘ کا پہلا پروگرام 22 دسمبر کو سامعین کے لیے پیش کیا گیا۔

اس ہفتہ وار پروگرام میں دونوں ملکوں کے حالات حاضرہ، سماجی، تفریحی اور تحقیقی موضوعات پر مذاکرے اور رپورٹس شامل ہوتی ہیں۔

پہلے پروگرام میں وائس آف امریکہ واشنگٹن سے تازہ خبریں اور فیچر جب کہ اسلام آباد میں آر این این نے صحت، طرز زندگی اور سماجی موضوعات پر رپورٹس شامل کی گئیں۔ ہر پروگرام میں تین سے چار سیگمنٹس وی او اے اور اتنے ہی آر این این کی پیش کیا کرے گا۔

اس پروگرام کی ساتھی میزبان وائس آف امریکہ کی سارہ زمان کہتی ہیں کہ ’’ یہ صحیح معنوں میں ایک مشترکہ پیشکش ہے، امریکہ اور پاکستان کی رپورٹس کو ملا کر سامعین کے لیے اہم موضوعات پر ایک مختلف نقطہ نظر پیش کرتے ہیں۔‘‘ سارہ کے ساتھ اس پروگرام میں اسلام آباد سے نگہت امان شریک میزبان ہوتی ہیں۔

وائس آف امریکہ کی اردو سروس کے سربراہ فیض رحمن نے آراین این کے ساتھ اس مشترکہ پیشکش کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’ہم مستقبل میں مل کر مزید کام کرنے کے منتظر ہیں۔‘‘

صدائے جہاں کے پہلے پروگرام میں پاکستان میں فلمی صنعت کی بحالی سے متعلق آر این این کی تیار کردہ رپورٹ اور امریکہ کا دورہ کرنے والے پاکستانی فلم سازوں کا وی او اے سے انٹرویو بھی شامل کیا گیا۔

پروگرام صدائے جہاں اتوار کو پاکستانی وقت کے مطابق صبح دو بجے وائس آف امریکہ کے میڈیم ویو 972 کلو ہرٹز پر پیش کیا جاتا ہے جب کہ آر این این اسے اپنے نیٹ ورک پر دن گیارہ بجے نشر مکرر کے طور پر پیش کرتا ہے۔

ریڈیو نیوز نیٹ ورک پاکستان کا ایک آزاد خبر رساں ادارہ ہے جس کے ایف ایم اسٹیشنز اسلام آباد اور ایبٹ آباد کے علاوہ وہاڑی میں قائم ہیں۔

اس مشترکہ پیشکش سے قبل وائس آف امریکہ ایک اور پاکستانی نجی ریڈیو چینل کے ساتھ بھی کام کر چکا ہے۔ رواں سال جولائی وائس آف امریکہ اور سن رائز 97 اسلام آباد نے ایک مشترکہ پیشکش ’’عاطف ود سن رائز‘‘ شروع کی تھی جو کہ ایک تفریحی پروگرام ہے۔

آر این این کے ساتھ اشتراک کے بعد وائس آف امریکہ اردو سروس کی وابستگی پاکستان میں چار ریڈیو اور پانچ ٹی وی چینلز کے وابستگی ہوگئی ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG