رسائی کے لنکس

پاکستان میں مندر کو مسمار کیے جانے کے واقعہ کی رپورٹ طلب


(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

سندھ ہائی کورٹ کے حکم امتناعی کے باوجود ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں حال ہی میں اطلاعات کے مطابق ایک نجی تعمیراتی کمپنی نے شری راما پیر مندر اور اس کے قریب گھروں کو مسمار کیا

صدر آصف علی زرداری نے کراچی میں ایک مندر اور ہندو اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے متعدد خاندانوں کے گھروں کو گرائے جانے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے اس کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔

صدارتی ترجمان کے مطابق صدر زرداری نے واقعے پر افسوس کا اظہار کیا اور حکام کو ہدایت دی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ کسی بھی مذہبی برادری کے ساتھ زیادتی نا ہو۔

سندھ ہائی کورٹ کے حکم امتناعی کے باوجود ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں حال ہی میں اطلاعات کے مطابق ایک نجی تعمیراتی کمپنی نے شری راما پیر مندر اور اس کے قریب گھروں کو مسمار کیا جس سے درجنوں ہندو شہری بے گھر ہو گئے۔

اقلیتوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ بھی ملک میں مذہبی اقلیتوں کو ہراساں کرنے کے مترادف ہے۔

ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر کھٹو مل جیون نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں اقلیتوں کو ہراساں کرنے کا الزام انتہا پسند عناصر پر لگایا۔

’’یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ اگر آپ کراچی کے پرانے نقشے کو دیکھیں تو کھارادر، بنس روڈ، رام سوامی اور کئی علاقوں میں ہمارے بڑے منڈر تھے جن پر آہستہ آہستہ قبضہ کر لیا گیا ہے۔‘‘

ہندو برادری کے ایک اور رکن قومی اسمبلی رام چند کہتے ہیں کہ شدت پسند عناصر ایسی کارروائیاں ہندو اقلیتوں کو ملک سے بھگانے کے لیے کرتے ہیں۔

’’وہ (انتہا پسند) کبھی تعمیرانی کمپنیوں کی صورت اپنا لیتے ہیں تو کبھی ہندووں کو اغواء کیا جاتا ہے۔‘‘

تاہم وزارت بین المذاہب ہم آہنگی کے سربراہ ڈاکٹر پال بھٹی کہتے ہیں کہ حکومت مذہبی اقلیتوں کو ہراساں کرنے اور ان پر تشدد کارروائیوں کے خلاف ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔

’’اس واقعے سے مجھے دکھ ہوا ہے مگر یہ کہنا کہ یہ اکثریت میں جو برادری ہے اس نے کیا ہے یہ درست نہ ہوگا۔ یہ اس گروہ کا کام ہے جو پاکستان میں انتشار چاہتا ہے۔‘‘

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق پاکستان میں رواں سال سینکڑوں افراد پرتشدد اور فرقہ وارانہ حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG