رسائی کے لنکس

خوفزدہ ہندو خاندان بھارت میں سیاسی پناہ کے متلاشی

  • ستار کاکڑ

کراچی کے مندر میں مذہبی رسومات میں مصروف ہندو

کراچی کے مندر میں مذہبی رسومات میں مصروف ہندو

قدرتی وسائل سے مالا مال پاکستان کے اس جنوب مغربی صوبے میں بلوچ عسکریت پسندوں نے گزشتہ چند سالوں سے سرکاری اہداف اورملک کے دوسرے حصوں سے آکر یہاں آباد ہونے والے خاندانوں پر جان لیوا حملوں کا سلسلہ تیز کر رکھا ہے۔ ان بلوچ تنظیموں کا موقف ہے کہ وہ بلوچستان کو زیادہ سے زیادہ خودمختار بنانے اور یہاں کے وسائل پر مقامی لوگوں کے حقوق دلوانے کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

بلوچستان میں اغواء برائے تاوان اور ہدف بنا کر قتل کرنے کے واقعات میں اضافے نے صوبے میں آباد اقلیتی ہندو برادری کے دو درجن سے زائد خاندا نوں کو بھارت میں سیاسی پناہ حاصل کرنے کی کوششوں پر مجبور کردیا ہے ۔

یہ انکشاف انسانی حقوق کی وفاقی وزارت کے علاقائی ڈائریکٹر سعید احمد خان نے کوئٹہ میں ایک سیمینار سے خطاب میں کیا ہے ۔

پیر کو انھوں نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہندو خاندان صدیوں سے بلوچستان میں آباد ہیں، لیکن حالیہ ہفتوں میں اس اقلیتی برادری کے کئی ارکان کے اغواء یا قتل کے واقعات کے بعد” لگ بھگ 27 خاندان سیاسی پناہ کے لیے اپنی درخواستیں(اسلام آباد میں) بھارتی سفارت خانے کو بھیج چکے ہیں۔“

سعید خان نے کہا کہ یہ ایک تشویش ناک امر ہے اس لیے حکومت کو بلوچستان میں امن وامان کی بہتری کے لیے فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

قدرتی وسائل سے مالا مال پاکستان کے اس جنوب مغربی صوبے میں بلوچ عسکریت پسندوں نے گزشتہ چند سالوں سے سرکاری اہداف اورملک کے دوسرے حصوں سے آکر یہاں آباد ہونے والے خاندانوں پر جان لیوا حملوں کا سلسلہ تیز کر رکھا ہے۔ ان بلوچ تنظیموں کا موقف ہے کہ وہ بلوچستان کو زیادہ سے زیادہ خودمختار بنانے اور یہاں کے وسائل پر مقامی لوگوں کے حقوق دلوانے کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کالعدم باغی تنظیمیں پُر تشدد کارروائیوں کے ذریعے صوبے میں علیحدگی پسند تحریک چلانے کی کوشش کر رہی ہیں اورانھیں بھارت کی پشت پناہی حاصل ہے۔ لیکن بھارتی حکام ان الزامات کو رد کرتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG