رسائی کے لنکس

انتہا پسند سوچ کا ہاتھ روکنے والے اب تک منٹو پر ہی رکے ہوئے ہیں!


وسعت اللہ خان، عائشہ صدیقہ اور رضا رومی کی وی او اے کے پروگرام انڈیپینڈنس ایونیو میں گفتگو

پچاس فیصد سے زائد نا خواندہ آبادی کے حامل پاکستان میں کیا ادب انتہاپسندی کے پھیلاؤ کا ذمہ دار رہا ہے؟ کیا اردو زبان پر شدت پسند نظریات کا غلبہ ہے؟ اردو کو روشن خیالوں نے انتہا پسندی کی جانب دھکیلا ہے؟ یا سرکاری سرپرستی نے؟

اس موضوع پر وائس آف امریکہ اردو کے پروگرام انڈیپنڈنس ایونیو میں بات کرتے ہوئے دفاعی اُمور کی ماہر ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کی اردو پڑھنے والی زیادہ آبادی، ایسی کتابوں سے اثر قبول کرتی ہے جو اسلاف کی عظمت کو دوبارہ زندہ کرنے کی سنہری کہانیوں اور بیرونی سازشوں کے فرضی جال میں لپٹے منفی بیانیے کو حسین اردو کے نقرئی کاغذ میں لپیٹ کر پیش کرتی ہیں۔

انہوں نے اس سلسلے میں اردوزبان میں تاریخی ناول لکھنے والے ادیب نسیم حجازی کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک ایسے اسلامی معاشرے کی بات کرتے ہیں، جس میں ہر طرف ترقی اور فتح ہو۔ ظاہر ہے لوگ ایسی چیزیں پڑھنے کی طرف زیادہ مائل ہوتے ہیں ، جو انہیں زیادہ پسند آئیں۔

عائشہ صدیقہ کا کہنا تھا کہ انتہا پسندی کی طرف لے جانے والا ادب ضروری نہیں کہ لوگوں کو مارنے، کاٹنے کی ترغیب پر ہی مبنی ہو۔ پاکستان میں ایک پورا ادب اس بنیاد پر لکھا گیا کہ کیسے اسلام اور پاکستان کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں۔ اور کس طرح پاکستان اور اسلام خطرے میں ہے۔

عائشہ صدیقہ کے بقول، انگریزی کے ادبی میلوں میں اردو ادب کی ترویج کم ہوتی ہے۔ لوگوں کی اکثریت کو علم ہی نہیں کہ اردو زبان میں ترقی پسندی کی باتیں بھی لکھی گئیں۔

بی بی سی کے صحافی اور کالم نگار وسعت اللہ خان کا کہنا تھا کہ دنیا میں کوئی انتہا پسند ایسا نہیں ہو گا جو بالکل ان پڑھ ہو۔ اور پڑھا لکھا انتہا پسند ضروری نہیں کہ کتابوں سے بھی شغف رکھتا ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ علم کو جب بدیانتی سے کسی مخصوص سوچ کو خوراک کی طرح لوگوں میں انجیکٹ کیا جاتا ہے تو اس کا علم سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ قرآنی آیات بلا سیاق و سباق اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنے کا کام مولوی بھی کرتا ہے اور لبرل سوچ کے حامل لوگ بھی۔

قائد اعظم کے اقوال، یا اقبال کے اشعار سے سب اپنی اپنی مرضی کا سامان اٹھا لیتے ہیں، اور آدھے کو پورے کی طرح دوسروں تک پہنچیا جاتا ہے ۔ یہ جو علم کی کرپشن ہے، اس سے خرابی پیدا ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ زبان کا تعلق ریاستی سرپرستی سے ہوتا ہے۔ ان کے بقول، اسلامی لٹریچر اور جہادی لٹریچر میں فرق ہے۔ نسیم حجازی یا انور عنایت اللہ کے ناول، بچپن میں میں نے بھی پڑھے ہیں اور میرا بہت خون کھولتا تھا، مسلمانوں پر مظالم کی کہانیاں پڑھ کر۔۔ اس سے یہ ترغیب نہیں ملتی تھی کہ سب تلواریں سونت کر اختلاف رائے رکھنے والے کی گردن اڑا دیں۔

انہوں نے کہا کہ میرے بچپن میں سب ترقی پسند تحریریں اردو زبان میں لکھی گئیں ۔ یہ اعتراض کہ اردو ہائی جیک ہو گئی، درست نہیں کیونکہ اردو زبان کی تاریخ تین سو سال پرانی ہے۔

انیس و دبیر کے مرثئے اردو میں ہیں ۔ ناول، شاعری، اشتراکیت، ترقی پسندی ہر جگہ اردو کا دخل تھا ۔ اردو زبان میں جہاد کے تصورکو ترویج اس وقت ملی جب افغانستان پرسویت یونین نے حملہ کیا ، قیاس کے مطابق، امریکی ماہرین ہی تھے، جنہوں نے خ سے خنجر اور الف اللہ پر مبنی نصاب بنانے میں سرکار کو مشاورت فراہم کی۔

وسعت اللہ خان کے بقول، ’’جب آپ تیزاب کی بوتل توڑ دیتے ہیں تو اس سے کون کون جلے گا ، یہ کوئی نہیں کہہ سکتا۔۔۔۔ انتہا پسندی کی موجودہ فصل،صرف چالیس سال پرانی ہے، تین سو سال پرانی نہیں کہ اُس میں تو اقبال اور فیض کی بھی جگہ تھی۔ انتہا پسند نظریات کا ہاتھ روکنے والے اب تک منٹو پرہی رکے ہوئے ہیں ، جہادی سوچ رکھنے والوں نے میڈیا کا ذہانت سے استعمال کرتے ہوئے میز بالکل الٹ دی ہے‘‘۔

رضا رومی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اچھی کتاب ایک ہزار سے زائد تعداد میں شائع ہی نہیں ہوتی۔ لیکن انتہا پسند سوچ پر مبنی لٹریچربڑی تعداد میں چھپتا ، ہاتھوں ہاتھ بکتا اور پڑھا جاتا ہے۔

انہوں نے اپنی کتاب ’دہلی بائے ہارٹ‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو اس کےنام سے ایسا لگا کہ وہ کوئی ہندوستان نواز کتاب ہے ، جبکہ ایسا نہیں تھا ۔ ان کا کہنا تھا کہ اردو زبان پر پاکستان میں انتہا پسندوں نے قبضہ جما لیا ہے۔

ہر قسم کا فرقہ ورانہ لٹریچر اردو زبان میں چھپتا ہے ۔ اور وہ زبان ایک ہتھیار بن گئی ہے ان لوگوں کے ہاتھ میں جو ایک مخصوص سوچ کے قیدی ہیں۔ اردو کو روشن خیالوں نے ترک بھی کر دیا ہے ۔ چالیس سالوں میں ریاستی اداروں نے جو انجینئیرنگ کی ہے اس سے انتہا پسند سوچ کو فروغ ملا ہے ۔ پاکستان کے اسی فیصد اردو اخبارات میں لکھے جانے والے کالم وہی لوگ لکھ رہے ہیں جو نسیم حجازی صاحب کے مکتبہ فکر پر یقین رکھتے ہیں ۔ اور یہ نظریاتی تفاوت پچھلے چالیس سال میں مزید بڑھی ہے ۔ اور اب تو اس سوچ کا غلبہ ٹیلی ویژن پر بھی نظر آتا ہے ۔

وسعت اللہ خان کا کہنا تھا کہ سوچنے کی بات یہ ہے کہ ستر کی دہائی تک پاکستان میں ادب پر بائیں بازو کی سوچ رکھنے والوں کا غلبہ تھا ، اب دائیں بازو کی سوچ والوں کا غلبہ ہے۔ ایسا کیوں کر ہوا ۔ یہ سوچنے کی ضرورت ہے۔

XS
SM
MD
LG