رسائی کے لنکس

پاکستان اور آئی ایم ایف کے مذاکرات کامیاب

  • عشرت سلیم

اسحاق ڈار نے بتایا کہ اسلام آباد میں مذاکرات کے بعد ساتواں جائزہ کامیابی سے مکمل کر لیا ہے جس کے بعد پاکستان کو تقریباً پچاس کروڑ ڈالر قرض کی اگلی قسط جون کے آخر تک جاری کر دی جائے گی۔

پاکستان کی وزارت خزانہ اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ’آئی ایم ایف‘ نے پاکستان کو قرض کی فراہمی سے متعلق ساتواں جائزہ کامیابی سے مکمل کر لیا ہے جس کے بعد پاکستان کو تقریباً پچاس کروڑ ساٹھ ڈالر قرض کی اگلی قسط جون کے آخر تک جاری کر دی جائے گی۔

اس بات کا اعلان پاکستان کے وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار نے پیر کو مذاکرات کا آخری دور مکمل ہونے کے بعد اسلام آباد میں کیا۔ اس سے پہلے مذاکرات کا ایک دور دبئی میں ہوا تھا۔

اسحاق ڈار نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ساکھ بہتر ہوئی ہے اور ملکی معیشت میں استحکام پیدا ہوا ہے جس سے بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا۔

انہوں نے کہا کہ تیل کی قیمتوں اور افراط زر کی شرح میں کمی کے باعث ملکی آمدن میں کمی واقع ہوئی ہے۔

اس کے علاوہ آپریشن ضربِ عضب اور اس کے باعث بے گھر ہونے والے افراد کی دیکھ بھال پر تقریباً 44 ارب روپے خرچ ہوئے جو بجٹ میں شامل نہیں تھے۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ان تمام اضافی اخراجات کے باوجود پاکستان نے کمزور طبقوں پر خرچ کی جانے والی رقوم میں کمی نہیں کی۔ بلکہ انکم سپورٹ پروگرام کے لیے مختص کی گئی رقم میں گزشتہ دو مالی سالوں کے دوران پچاس فیصد اضافہ کیا گیا۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ان سب مشکلات کے باوجود پاکستان سخت معاشی نظم و ضبط پر کار بند ہے اور اس سال اپنے اقتصادی اہداف حاصل کرے گا۔

اس موقع پر آئی ایم ایف کے پاکستان مشن کے سربراہ ھیرالڈ فنگر نے کہا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران پاکستانی معشیت کے اشاریے بہتر ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ خوش آئند بات ہے کہ پاکستان نے قرض کے حصول کے لیے ’آئی ایم ایف‘ تمام شرائط کو پورا کیا ہے۔ اب پاکستان کو اقتصادی اصلاحات کی طرف توجہ مرکوز کرنا ہو گی تاکہ ترقی کو بڑھایا جا سکے۔

پاکستان کی معاشی حالت کا جائزہ لینے کے لیے پاکستان کی وزارت خزانہ اور آئی ایم ایف کے وفد کے درمیان مذاکرات ہر تین ماہ بعد ہوتے ہیں۔

آئی ایم ایف نے 2013ء میں پاکستان کو تین برسوں کے دوران کل سات ارب 78 کروڑ سے زائد کا قرض قسطوں میں دینے کی منظوری دی تھی۔ مارچ میں منظور کی گئی قسط کے اجراء کے بعد پاکستان کو فراہم کردہ قرض تقریباً ساڑھے تین ارب ڈالر ہو گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG