رسائی کے لنکس

پاک بھارت خارجہ سیکرٹری سطح کے مذاکرات


پاکستان کے خارجہ سیکرٹری سلمان بشیر اپنی بھارتی ہم منصب نروپما راؤ کے ساتھ

پاکستان کے خارجہ سیکرٹری سلمان بشیر اپنی بھارتی ہم منصب نروپما راؤ کے ساتھ

پاکستان اور بھارت کے درمیان خارجہ سیکرٹری سطح پر دو روزہ مذاکرت کا آغاز جمعرات کو اسلام آباد میں ہوا۔

مذاکرات میں خطے میں امن و سلامتی، اعتماد سازی، دوطرفہ عوامی روابط کو فروغ دینے کے لیے وفود کے تبادلوں اور کشمیر کے تنازع کے حل پر بھی بات چیت کی جا رہی ہے۔

دفتر خارجہ میں ہونے والے اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر جب کہ بھارتی وفد کی سربراہی اُن کی ہم منصب نروپما راؤ کر رہی ہیں۔ مذاکرات کے اختتام پر جمعہ کو ان میں ہونے والی پیش رفت کے بارے میں ذرائع ابلاغ کو آگاہ کیا جائے گا۔

بات چیت سے قبل ایک بیان میں بھارتی سیکرٹری خارجہ نروپما راؤ کا کہنا تھا کہ وہ کھلے ذہن اور تعمیری سوچ کے ساتھ پاکستان پہنچی ہیں تاکہ باہمی اعتماد سازی کو فروغ دے کر دوطرفہ تعلقات کو معمول پر لایا جا سکے جو ان کے بقول دونوں ملکوں کے عوام کی خوشحالی کے لیے ضروری ہیں۔

نروپما راؤ کا کہنا تھا کہ بھارت پاکستان کو ایک مستحکم، پر امن اور خوشحال ملک کے طور پر دیکھنا چاہتا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ یہ دورہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیوں کہ اس کے بعد آئندہ ماہ دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ بھارت میں ملاقات کریں گے۔ تاہم پاکستان میں وزیر خارجہ کا منصب خلای ہونے کے باعث دونوں ملکوں کے درمیان وزرا سطح پر بات چیت کی تاریخ کا اعلان تاحال نہیں کیا گیا ہے۔

اسلام آباد میں جمعرات کو ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں وزیر مملکت برائے خارجہ اُمور حنا ربانی کھر نے پاکستان کے موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ اُن کا ملک انتہائی ذمہ داری کے ساتھ بھارت سے مذاکرات میں شرکت کر رہا ہے۔

حنا ربانی کھر کا کہنا تھا کہ ’’پاکستان ناصرف ملک میں بلکہ جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے اپنی مخلصانہ کوششیں جاری رکھے گا۔‘‘

پاک بھارت مذاکرات سے ایک روز قبل وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا تھا کہ کہ بات چیت میں دونوں ملکوں کو خلوص نیت کے ساتھ متنازع امور کو حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے تاکہ خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے اور تمام تر توجہ یہاں موجود غربت اور اقتصادی مشکلات کو حل کرنے پر دی جا سکے۔

پاکستان اور بھارت نے متنازع اُمور کا پر امن حل تلاش کرنے کے لیے 2004ء میں جامع امن مذاکرات کا عمل شروع کیا تھا جو نومبر 2008ء میں بھارتی شہر ممبئی میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کے بعد دو سال سے زائد عرصہ تک منقطع رہنے کے بعد مارچ میں بحال ہوا۔

XS
SM
MD
LG