رسائی کے لنکس

بھارت اور پاکستان میں الزامات کا تبادلہ


پاکستان اور بھارت دونوں نے ہی جنرل اسمبلی کے سامنے ایک دوسرے کے خلاف نسبتًا سخت لہجہ اختیار کیا

پاکستان اور بھارت دونوں نے ہی جنرل اسمبلی کے سامنے ایک دوسرے کے خلاف نسبتًا سخت لہجہ اختیار کیا

اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب امجد سیال نے تامل ٹائیگرز کی جماعت ایل ٹی ٹی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے یہ خونی دہشت گرد جماعت بنائی تھی اور اس کی سرپرستی کی تھی جس نے خطے میں خوش کش بم حملوں کا آغاز کیا تھا۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بدھ کو پاکستان اور بھارت کی طرف سے ایک دوسرے پر الزامات و جوابی الزامات کا سلسلہ چل نکلا۔

بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں کشمیر میں حالات کی خرابی کا ذمہ دار ‘‘پاکستان کی سرپرستی میں ہونے والی عسکریت پسندی اور دہشت گردی’’ کو قرار دیا۔

اس سے ایک روز قبل پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کے سامنے اپنے خطاب میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش ظاہر کی تھی اور کشمیری عوام کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت حق خود ارادیت کا مطالبہ کیا تھا۔

اس کے جواب میں مسٹر کرشنا نے اپنے خطاب میں جموں و کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ‘‘پاکستان ہمیں جمہوریت اور انسانی حقوق کے سبق نہیں پڑھا سکتا۔’’

اس کے علاوہ افغانستان کا ذکر کرتے ہوئے بھارتی وزیر خارجہ نے کہا کہ وہاں امن اور سلامتی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ‘‘افغانستان کی سرحد کے پار دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے ہیں۔’’

مسٹر کرشنا کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر پاکستان اپنی سرزمین بھارت کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہ دے تو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بہتر ہو سکتے ہیں۔

وزیر خارجہ کرشنا اور پاکستانی ہم منصب قریشی (فائل فوٹو)

وزیر خارجہ کرشنا اور پاکستانی ہم منصب قریشی (فائل فوٹو)

بھارتی وزیر خارجہ کے خطاب کے بعد جواب کا حق استعمال کرتے ہوئے پاکستان نے بدھ کو جنرل اسمبلی کے سامنے بیان دیا کہ بھارت کو دوسروں پر اعتراض کرنے سے پہلے خود اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے۔

پاکستان کی طرف سے جواب دیتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب امجد سیال نے تامل ٹائیگرز کی جماعت ایل ٹی ٹی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے یہ خونی دہشت گرد جماعت بنائی تھی اور اس کی سرپرستی کی تھی جس نے خطے میں خوش کش بم حملوں کا آغاز کیا تھا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ کشمیر کا مسئلہ بھارت کا اندرونی مسئلہ نہیں اور کشمیریوں کی حق خود ارادیت کے لیے جدوجہد کو دہشت گردی نہیں کہا جا سکتا۔

اس بیان پر جواب کا حق استعمال کرتے ہوئے بھارتی مندوب نے کہا کہ کشمیریوں کو بھارت کے آئین کے مطابق تمام حقوق حاصل ہیں اور کشمیر بھارت کا حصہ ہے۔ اس کے بعد بھی جواب در جواب کا ایک دور اور چلا۔

مبصرین کا کہنا ہےکہ اس سال پاکستان اور بھارت دونوں نے ہی جنرل اسمبلی میں ایک دوسرے کے خلاف نسبتًا سخت لہجہ اختیار کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG