رسائی کے لنکس

ممبئی حملے: عدالتی کمیشن کی فروری میں بھارت روانگی


پاکستانی وزیر داخلہ رحمن ملک (فائل فوٹو)

پاکستانی وزیر داخلہ رحمن ملک (فائل فوٹو)

پاکستان نے کہا ہے کہ اس کا ایک عدالتی کمیشن ممبئی حملوں کی تحقیقات سے منسلک بھارتی افسران سے سوال و جواب کرنے فروری کے پہلے ہفتے میں بھارت جائے گا۔

انسداد دہشت گردی کی ایک پاکستانی عدالت میں سات افراد کے خلاف ممبئی حملوں میں کردار ادا کرنے کے الزامات پر مقدمہ چلایا جا رہا ہے اور ان مشتبہ شدت پسندوں کے وکلا کی استدعا پر عدالت نے مقدمے کی کارروائی میں پیش رفت کو پاکستانی عدالتی کمیشن کے دورہ بھارت سے مشروط کر رکھا ہے۔

بدھ کو اسلام آباد میں وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے بتایا کہ مجوزہ کمیشن کے ارکان کی پاکستانی فہرست کا بھارتی عہدیداروں نے مثبت جواب دیتے ہوئے رواں ہفتے اُنھیں مطلع کیا اور بتایا ہے کہ ممبئی کی ہائی کورٹ نے کمیشن کو 2 اور 8 فروری کے درمیان کسی بھی وقت بھارت کا دورہ کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ کمیشن نے دورہ بھارت کی تیاریاں مکمل کر لی تھیں لیکن پاکستان کی تحویل میں ممبئی حملوں کے مبینہ منصوبہ ساز ضیا الرحمٰن لکھوی کے وکیل خواجہ سلطان کی اچانک موت کے باعث اس میں کچھ تاخیر ہو رہی ہے کیونکہ ان کی جگہ متبادل وکیل کی نامزدگی ابھی نہیں کی گئی ہے۔

وزیر داخلہ نے بتایا کہ ملزمان نے اس سلسلے میں عدالت سے 28 جنوری تک کی مہلت مانگ رکھی ہے۔

’’میں نے آج وزارت داخلہ کو ہدایت کی ہی کہ ایف آئی اے کے ڈائریکٹر کے مشورے سے استغاثہ اور دفاع کے وکلا پر مشتمل کمیشن کو 3 اور 6 فروری کے درمیان بھارت جانا چاہیئے۔ اُنھیں ویزوں کے لیے وزارت خارجہ کو پاسپورٹ بھجوانے کی ہدایت کردی گئی ہے۔ وفد میں تمام ملزمان کے وکلا شامل ہیں۔‘‘

رحمٰن ملک نے کہا کہ بھارت کا اصرار تھا کہ اس مقدمے کو جلد سے جلد نمٹا کر زیر حراست افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے لیکن اُن کے بقول جب تک عدالتی کمیشن بھارتی گواہوں کے بیانات قلم بند نہیں کر لیتا مقدمے میں پیش رفت نہیں ہوسکتی۔

’’اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ یہ (عدالتی کمیشن کو دورے کی اجازت ملنا) ایک اچھی پیش رفت ہے کیونکہ ہمیں ہمیشہ یہی کہا جاتا تھا کہ اس میں جلدی نہیں ہو رہی۔ جلدی ہو نہیں سکتی تھی کیونکہ جب تک جوڈیشل کمیشن گواہوں پر جرا نہیں کر لیتا اس کے بغیر ہم آگے نہیں بڑھ سکتے تھے۔‘‘

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق اپنے دورے کے دوران پاکستان کا عدالتی کمیشن ایڈیشنل چیف میٹروپولٹن مجسٹریٹ سوانت وگلے اور تحقیقاتی افسر رمیش ماہیلے کے بیانات قلم بند کرے گا جن کے سامنے اجمل قصاب نے اعتراف جرم کیا تھا۔

مزید برآں کمیشن ممبئی حملوں میں ملوث افراد کی لاشوں کے پوسٹ مارٹم کرنے والے دو بھارتی ڈاکٹروں کے بیانات بھی حاصل کرنے کا خواہش مند ہے۔

پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے اسپیشل انویسٹی گیشن گروپ کے سربراہ خالد قریشی کے علاوہ استغاثہ کے مرکزی وکلا محمد اظہر چودھری اور چودھری ذوالفقار بھی عدالتی کمیشن میں شامل ہیں۔

بھارت کے اقتصادی مرکز ممبئی میں نومبر 2008ء میں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں غیر ملکیوں سمیت 166 افراد ہلاک ہوئے تھے اور اس کارروائی میں حصہ لینے والے مسلح افراد ما سوائے پاکستانی شہری اجمل قصاب کے بھارتی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاک ہو گئے تھے۔

اس واقعے کے بعد بھارت نے پاکستان کے ساتھ جامع امن مذاکرات کا سلسلہ یک طرفہ طور پر معطل کر دیا تھا جو اب بحال ہو چکا ہے۔

XS
SM
MD
LG