رسائی کے لنکس

پاک بھارت امن مذاکرات کا سلسلہ سے 25 فروری سے دوبارہ شروع ہو گا


Pakistan India

Pakistan India

دو طرفہ امن مذاکرات کا عمل 2004 ء کے اوائل میں شروع ہوا تھا اور تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے دونوں ملکوں نے اس دوران دوستانہ ماحول کو فروغ دینے کے لیے تاریخ سازسفری اور تجارتی سہولتوں کا اعلان بھی کیا۔ لیکن نومبر 2008ء میں بھارتی کے شہر ممبئی میں دہشت گردانہ حملوں کی ذمہ داری پاکستان میں مقیم انتہا پسند تنظیموں پر عائد کرتے ہوئے بھارت نے امن مذاکرات کے سلسلے کو یک طرفہ طور پر معطل کردیا۔

وزارت خارجہ نے جمعہ کو ایک مختصر بیان میں بتایا ہے کہ خارجہ سیکریٹری سلمان بشیر کی قیادت میں پاکستانی وفد 25 فروری کو نئی دہلی جائے گا جہاں وہ بھارتی ہم منصب نیروپما راؤ کی ساتھ ملاقات کریں گے۔

اس سے قبل وزیر اعظم یوسف رضاگیلانی نے پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر مولانا فضل الرحمن اور وزیر خارجہ شاہ محمود سے ملاقا ت میں پاکستان اور بھارت کے درمیان تمام امور خصوصاَ َکشمیر اور پانی کے تنازعات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس ملاقات کے بعد وزیر اعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بات چیت میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ بھارت کے ساتھ جامع امن مذاکرات میں تما م دیرینہ تنازعات پر بات چیت کی جائے گی اور بھارتی حکام پر زور دیا جائے گا کہ ان مسائل کو جلد سے جلد حل کیا جائے۔

سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے ملاقات میں موجود خارجہ سیکریٹری سلمان بشیر کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے بھارتی ہم منصب کے ساتھ بات چیت کو بامعنی اور نتیجہ خیز بنانے کی ضرور ت پر زور دیں۔

واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دو طرفہ امن مذاکرات کا عمل 2004 ء کے اوائل میں شروع ہوا تھا اور تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے دونوں ملکوں نے اس دوران دوستانہ ماحول کو فروغ دینے کے لیے تاریخی سفری اور تجارتی سہولتوں کا اعلان بھی کیا۔ خاص طور پر منقسم کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے آر پار رہنے والے خاندانوں کے ملاپ کے لیے بس سروس اور تجارتی روابط بحال کیے ۔

لیکن نومبر 2008ء میں بھارتی کے شہر ممبئی میں دہشت گردانہ حملوں کی ذمہ داری پاکستان میں مقیم انتہا پسند تنظیموں پر عائد کرتے ہوئے بھارت نے امن مذاکرات کے سلسلے کو یک طرفہ طور پر معطل کردیا۔ بھارتی حکام کا کہنا تھا کے جب تک پاکستان ممبئی حملوں میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی نہیں کرتا بات چیت کا سلسلہ بحال نہیں کیا جائے گا۔ تاہم بھارت نے اس ماہ اچانک پاکستان کو مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کرنے کی پیشکش کر دی جسے پاکستانی حکومت نے مان لیا ہے۔

لیکن بات چیت میں دہشت گردی کے معاملے کو ایجنڈ ے پر سرفہرست رکھا جائے یا پھر کشمیر اور پانی کے تنازعات کو اس حوالے سے دونوں ملکو ں کے مئوقف میں واضح فرق ہے ۔

XS
SM
MD
LG