رسائی کے لنکس

پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں حالیہ مہینوں میں آنے والی بہتری سے دوطرفہ تجارتی روابط میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

ان دنوں ملک کے دیگر شہروں کی طرح دارالحکومت اسلام آباد کے بازاروں میں بھی بھارت سے درآمد شدہ آم، کیلے اور سیب ہاتھوں ہاتھ بک رہے ہیں۔

لیکن خریداروں کا کہنا ہے کہ بھارتی پھلوں کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں کی وجہ سے یہ عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہیں اور صرف مالی طور پر خوشحال طبقہ ہی ان سے لطف اندوز ہو رہا ہے۔

وفاقی دارالحکومت میں گزشتہ 20 سال سے پھل فروخت کرنے والے محمد نواز کی دکان پر بھی بھارت سے درآمد کیے جانے والے کیلے، سیب اور آم سجے ہوئے ہیں جو مقامی پھلوں کی نسبت خوشنما اور بڑے سائز کے ہیں۔

’’بہت مہنگا پڑا ہے لیکن اس کے باوجود لوگ کھا رہے ہیں بھارت ادھر آ کر چھا رہا ہے۔‘‘

پھل فروش محمد رمضان بھارت سے درآمد کیے جانے والے کیلے کے بارے میں کہتے ہیں۔ ’’پاکستان کے (کیلے) کا سائز بہت چھوٹا ہے اور لوگ کم خریدتے ہیں۔ ادھر مارکیٹ میں ہے نہیں اس لیے ہم یہ انڈین (کیلے) لے کر آتے ہیں۔ مہنگا لے کر آتے ہیں مہنگا بیچتے ہیں۔‘‘

اس دکان پر میاں محمد خان خاص طور پر بھارتی پھل خریدنے آئے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ یہ پھل معیار میں بہت اچھا ہے اور اس مناسبت سے اس کی قمیت زیادہ نہیں۔ ’’جو بندے خرید سکتے ہیں وہ کوالٹی کی وجہ سے خرید رہے ہیں چاہے مہنگا ہے۔‘‘

لیکن قریب موجود محمد آزاد خان کا کہنا تھا دیکھنے میں بھارتی کیلے کتنے ہی بھلے کیوں نا لگیں وہ مالی طور پر انھیں خریدنے کی اسطاعت نہیں رکھتے۔

’’اگر پہلے ساٹھ ستر روپے درجن کیلا مل رہا تھا اب اگر اڑھائی تین سو روپے درجن مل رہا ہے وہ تو میں نہیں کھا سکتا، میں خرید بھی نہیں سکتا۔ یہ جو تجارت کی ہے نا یہ ملک کے ساتھ زیادتی کر رہے ہیں۔ سستا لیں، سستا عوام تک مہیا کریں۔ پھر عوام خریدے گی۔ اتنا مہنگا، یہ تجارت تو نا ہوئی۔‘‘

پاکستان میں گزشتہ دو سالوں کے دوران سندھ میں سیلاب کی وجہ سے کیلے کی پیداوار پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں جس کی وجہ سے بھارت سے ان کی درآمد کی جا رہی ہے۔

گزشتہ سال بھارت کو تجارت کے لیے انتہائی مراعات یافتہ ملک (ایم ایف این) کا درجہ دینے کے پاکستانی حکومت کے اعلان کے بعد سے اس امید کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ جنوبی ایشیا کے ان دو حریف ملکوں کے درمیان تعلقات معمول پر آنے سے خطے میں تجارتی و اقتصادی تعاون کو فروغ ملے گا۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG