رسائی کے لنکس

بھارت نے مذاکرات کی افادیت سے اتفاق کیا ہے: اعزاز چوہدری

  • عشرت سلیم

سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے کہا ہے بلوچستان میں پکڑے جانے والے مبیبہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو تک بھارت کو سفارتی رسائی دینے کا معاملہ زیر غور ہے۔

پاکستان کے سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مسائل کا حل بات چیت ہی سے ممکن ہے۔

نئی دہلی میں ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت کے بعد وطن واپس پہنچنے پر بدھ کو اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں پاکستانی سیکرٹری خارجہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے بھارتی ہم منصب ایس جے شنکر کو ایک مرتبہ پھر پاکستان کے اس موقف سے سے آگاہ کیا ہے کہ تمام تصفیہ طلب معاملات کے حل کے لیے مسلسل اور باضابطہ مذاکرات انتہائی ضروری ہیں۔

اُنھوں نے اس موقع پر یہ اعتراف بھی کیا کہ بھارت بھی جامع مذاکرات کی افادیت سے اتفاق کرتا ہے۔

’’اُنھوں نے (بھارتی عہدیداروں) جامع مذاکرات کی افادیت سے مکمل طور پر اتفاق کیا، اُنھوں نے کہا یہ بڑا ضروری ہے لیکن کوئی ٹائم فریم اُنھوں نے نہیں دیا۔‘‘

سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے اس موقع پر ایک سوال کے جواب میں کہا ہے بلوچستان میں پکڑے جانے والے مبیبہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو تک بھارت کو سفارتی رسائی دینے کا معاملہ زیر غور ہے۔

نئی دہلی میں ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کے موقع پر منگل کو اعزاز چوہدری سے ہونے والی ملاقات میں بھارت کے سیکرٹری خارجہ ایس جے شنکر نے کلبھوشن کو سفارتی رسائی دینے کا معاملہ اٹھایا تھا، جب کہ پاکستان نے بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے پاکستان میں تخریبی سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر گہری تشویش کا اظہار کیا تھا۔

پاکستانی حکام کا دعویٰ ہے کہ کلبھوشن یادیو بھارتی خفیہ ادارے ’را‘ کا اہلکار ہے اور اسے مارچ میں بلوچستان سے گرفتار کیا گیا۔ مبینہ طور پر کلبھوشن نے بلوچستان اور کراچی میں تخریبی سرمیوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے۔

بھارت نے تسلیم کیا ہے کہ کلبھوشن بھارتی شہری ہے اور بھارتی بحریہ کا سابق ملازم ہے مگر اس بات سے انکار کیا ہے کہ وہ خفیہ ادارے کی ایما پر پاکستان میں تخریب کاری میں ملوث تھا۔

بدھ کو میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے اعزاز احمد چوہدری نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کو اس معاملے پر اپنی تشویش سے آگاہ کیا ہے۔

’’ہم نے باقاعدہ یہ معاملہ ان کے ساتھ اٹھایا کہ اگر دونوں ملکوں کو اپنے تعلقات بہتر کرنے ہیں تو اس قسم کی جو سرگرمیاں ہیں وہ درست نہیں اور ان کو بند ہونا چاہیئے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا ہے کلبھوشن یادیو تک سفارتی رسائی کا معاملہ مجاز اتھارٹی کے پاس زیر غور ہے۔

اگرچہ انہوں نے کسی ادارے کا نام نہیں لیا مگر ان کا اشارہ فوج کی طرف تھا جو کلبھوشن یادیو سے تفتیش کر رہی ہے۔

پاکستان اور بھارت کے عہدیداروں نے تین سال کے توقف کے بعد دسمبر میں جامع مذاکرات کے عمل کو بحال کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

ابھی ان مذاکرات کے تحت دنوں ملکوں کے خارجہ سیکرٹریوں کے درمیان پہلی ملاقات بھی نہیں ہوئی تھی کہ جنوری کے اوائل میں پٹھان کوٹ میں بھارتی فضائیہ کے اڈے پر دہشت گرد حملے کے بعد اس ملاقات کو مؤخر کر دیا گیا تھا اور تین ماہ کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی کسی نئی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔

XS
SM
MD
LG