رسائی کے لنکس

پاکستانی صدر کہہ چکے ہیں کہ ’’کشمیر اقوام متحدہ کے نظام کی پُختگیوں کی نہیں بلکہ اس کی ناکامیوں کی بدستور ایک علامت ہے۔‘‘

پاکستان نے اقوام متحدہ کے سالانہ اجلاس سے صدرآصف علی زرداری کے خطاب میں کشمیرکے تذکرے کو’’غیر موزوں‘‘ اوراس متنازع خطے کو’’کُلی طورپر‘‘ ہندوستان کا حصہ قرار دینے کے بھارتی وزیر خارجہ کے بیان کو مسترد کیا ہے۔

وزیرخارجہ ایس ایم کرشنا نے پیرکو نیویارک میں عالمی تنظیم کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں پاکستانی صدرکی تقریر میں تنازع کشمیرکو اُٹھانے پرکڑی نکتہ چینی کی۔

اُن کا کہنا تھا کہ بھارت نے پاکستان کے ساتھ مذاکراتی سلسلہ بحال کیا ہے اور وہ تعلقات کو معمول پر لانے کا خواہاں ہے۔ لیکن بھارتی وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کا اُن کے ملک کے اندرونی معاملات سے کوئی سروکار نہیں۔

’’اس چبوترے سے جموں و کشمیر کا ایک بے جواز حوالہ دیا گیا۔ ہم یہ بات بالکل واضح کردینا چاہتے ہیں کہ جموں و کشمیرکُلی طور پربھارت کا حصہ ہے۔‘‘

صدر زرداری نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی دیرینہ قراردادوں کے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے کشمیری عوام کے حق کی حمایت جاری رکھے گا۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’’کشمیر اقوام متحدہ کے نظام کی پُختگیوں کی نہیں بلکہ اس کی ناکامیوں کی بدستور ایک علامت ہے‘‘۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب رضا بشیر تارڑ نے بھارتی وزیر خارجہ کی تنقید کے جواب میں صدر زرداری کی تقریر کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ تنازع جموں وکشمیر کا حوالہ ’’بے جواز‘‘ نہیں تھا۔

’’میں یہ بھی بالکل واضح کردینا چاہتا ہوں کہ جموں وکشمیرنا تو کُلی طور پر انڈیا کا حصہ ہے اورنہ کبھی رہا ہے۔‘‘

لیکن بھارتی مستقبل مندوب وِنے کمار نے بھی جوابی بیان کا حق استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر ’’کُلی طور‘‘ پر اُن کے ملک کا حصہ ہے، جس کے بعض علاقوں پر بھارت کی علاقائی سالمیت اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان نے’’ناجائز قبضہ‘‘ کررکھا ہے۔

اس پر پاکستانی مندوب تارڑ نے کہا کہ سلامتی کونسل کی قراردادوں میں جموں و کشمیر کو متنازع علاقہ قرار دیا جاچکا ہے اور دونوں ممالک نے اس پر اتفاق کیا تھا۔

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں 1989ء سے مسلمان تنظیمیں علیحدگی کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ عسکری تنظیموں کے بھارتی سکیورٹی فورسز پر حملوں اور جوابی آپریشنز میں اب تک خطے میں 68 ہزار لوگ ہلاک ہوچکے ہیں۔

بھارت کا الزام ہے کہ پاکستان علیحدگی پسندوں کی پشت پناہی کرتا ہے اور یہ معاملہ دوطرفہ تعلقات میں مسلسل کشیدگی کی ایک بڑی وجہ ہے۔ پاکستان ان الزامات کی نفی کرتا آیا ہے اور اُس کا موقف ہے کہ کشمیر میں ’’آزادی کی تحریک‘‘ مقامی طور پر چلائی جارہی ہے۔

دونوں ہمسایہ ملکوں کے خاص طور پر تجارتی و اقتصادی روابط میں حالیہ مہینوں میں تیزی سے بہتری آئی ہے۔

مگر اقوام متحدہ کے اجلاس میں پاکستان اور بھارت کے درمیان سخت نوک جھونک اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ دونوں ملک کشمیر پر لچک دیکھانے کو تیار نہیں اور یہ تنازع امن مذاکراتی سلسلے کے لیے بدستور ایک چیلنج ہے۔
XS
SM
MD
LG