رسائی کے لنکس

بھارت 100 ایٹم بم بنا سکتا ہے ،پاکستان کی تشویش

  • ب

بھارت 100 ایٹم بم بنا سکتا ہے ،پاکستان کی تشویش

بھارت 100 ایٹم بم بنا سکتا ہے ،پاکستان کی تشویش

پاکستان نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ بھارت کو امریکہ اور دوسری عالمی قوتوں کی طرف سے جو سولین جوہری مواد حاصل ہورہا ہے وہ اسے متبادل طور پر استعمال کرکے سالانہ ایک سو ایٹم بم تیار کرسکتا ہے۔

جنیوامیں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام منعقد تخفیف اسلحہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عالمی تنظیم میں پاکستان کے سفیر ضمیر اکرم نے کہا کہ سولین جوہری معاہدوں میں افزودہ یورینیم اور پلوٹونیم کے متبادل طور پر ہتھیاروں کی پیدوار میں استعمال کو روکنے کے لیے جو حفاظتی نظام موجودہے اس میں ان کے بقول ”نقائص“ موجود ہیں۔

انھوں نے کہا ”اس بات کا خطرہ موجود ہے کہ سویلین مقاصد کے لیے حاصل کیا گیا جوہری مواد خفیہ طور پر ہتھیاروں کی تیاری کے لیے منتقل کی جاسکتا ہے“۔

ادھر تخفیف اسلحہ کے بارے میں بھارتی سفیر حامد علی خان نے ضمیر اکرم کی تشویش کو بلاجواز اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔ اپنے بیان میں انھوں نے کہا کہ پاکستان کو ایسے بیانات سے گریز کرنا چاہیئے جو ان کے بقول کانفرنس کو سنجیدہ اور ٹھوس نتائج تک پہنچانے میں رکاوٹ کا باعث بنیں۔

بھارتی سفیر کے مطابق ”عدم پھیلاؤ کے حوالے سے ان کے ملک کا ریکارڈ غلطیوں سے پاک ہے جن کا وسیع طور پر اعتراف بھی کیا جاتا ہے۔“
خیال رہے کہ پاکستان اور بھارت دونوں ہی جوہری قوت کے حامل اور ایک دوسرے کے روایتی حریف ملک ہیں جن کے درمیان 25فروری کو خارجہ سیکرٹریوں کی سطح پر ہونے والی بات چیت نے دوطرفہ کشیدگی میں کمی کے امکانات پیدا کیے ہیں۔

بھارت کے امریکہ اور برطانیہ دونوں ہی کے ساتھ پرامن جوہری تعاون کے معاہدے موجود ہیں جن پر پاکستان شروع ہی سے اپنی تشویش کا اظہار کرتا آیا ہے۔

XS
SM
MD
LG