رسائی کے لنکس

پاک بھارت وزرائے خارجہ بات چیت سے توقعات


فائل فوٹو

فائل فوٹو

پاکستان او ربھارت کے درمیان وزرائے خارجہ سطح کی بات چیت کو دونوں ممالک کے سیاسی حلقے اور مبصرین ایک مثبت پیش رفت قرار دے رہے ۔ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے سابق وزیراعظم سردار عتیق نے وائس آف امریکہ سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین مذاکرات کا سلسلہ ممبئی حملوں کے بعد تعطل کا شکار ہوگیا تھا جس سے اُن کے بقول مایوسی پیدا ہورہی تھی لیکن اب بات چیت کی بحالی ایک خوش آئندہ پیش رفت ہے۔

پاک بھارت وزرائے خارجہ (فائل فوٹو)

پاک بھارت وزرائے خارجہ (فائل فوٹو)

سردار عتیق نے کہا کہ موجود حالا ت میں بعض معاملات پر پیش رفت ہوسکتی ہے لیکن ایسا بھی ممکن ہے کہ وزرائے خارجہ سطح کی بات چیت میں کوئی قابل ذکرکامیابی نہ ہو۔ تاہم اُنھوں نے کہا کہ دوطرفہ حل طلب معاملات میں حقیقی پیش رفت کے لیے ضروری ہے کہ بات چیت کا عمل جاری رکھاجائے۔

بھارت کی جواہرلال نہرو یونیورسٹی سے وابستہ تجزیہ کار سورن سنگھ کاکہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے مابین حل طلب مسائل اتنے اُلجھے ہوئے ہیں کہ اُن میں قابل ذکرپیش رفت کسی ایک ملاقات میں ممکن نہیں۔ سورن سنگھ کا کہنا ہے کہ ایسی صورت حال میں وزرائے خارجہ سطح کے مذاکرات سے بہت زیادہ توقعات نہیں رکھنی چاہیں تاہم اُن کا کہنا ہے کہ بات چیت کاآغاز خو د مثبت اقدام ہے۔

پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے وائس آف امریکہ باتیں کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے اچھے تعلقات کے اثرات پورے خطے اور افغانستان کی صورت حا ل پر مرتب ہوں گے ۔

پاکستان اور بھارت کے حکام یہ کہہ چکے ہیں وزرائے خارجہ سطح کی اس بات چیت سے بہت زیادہ توقعات وابستہ کرنا درست نہیں ہوگا تاہم اُن کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کے عمل کا آغاز مثبت پیش رفت ہے ۔

XS
SM
MD
LG