رسائی کے لنکس

پاک بھارت مذاکرات ، سابق امریکی سفیر این پیٹر سن کی نظر میں

  • عمران صدیقی

پاک بھارت مذاکرات ، سابق امریکی سفیر این پیٹر سن کی نظر میں

پاک بھارت مذاکرات ، سابق امریکی سفیر این پیٹر سن کی نظر میں

پاکستان اوربھارت کے سفارتی عہدے داروں اور وزارائے خارجہ حنا ربانی کھر اور ایس ایم کرشنا کے درمیان حالیہ مذاکرات میں کسی بڑے مسئلے پر کوئی نمایاں پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی ، تاہم ماہرین دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کا سلسلہ دوبارہ شروع ہونے کو ایک مثبت پیش رفت کے طورپر دیکھ رہے ہیں۔

این پیٹرسن 2007ء سے 2010ء تک پاکستان میں امریکہ کی سفیر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی تعلقات میں بہتری پیدا ہوئی تھی اور ایسا دوبارہ بھی ہوسکتا ہے۔ مگر این پٹرسن کے مطابق جنوبی ایشیا ایک ایسا خطہ ہے ، جس کے ملکوں کے درمیان باہمی تجارت کا حجم اتنا نہیں ہے، جتنا ہو سکتا ہے ۔

ان کا کہناتھا کہ بھارت اپنی روایتی فوجی قوت میں اضافہ کررہاہے جب کہ جواباً اپنے جوہری اثاثوں کو ترقی دے رہاہے اور اس صورت حال کے پیش نظر دونوں ممالک کو خطے میں امن کے قیام کے لیے مل کرکام کرنا ہوگا۔

سابق امریکی سفیر کا کہناتھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارت بڑھانے کے وسیع امکانات موجود ہیں ۔ اگردونوں ممالک ایک دوسرے کے لیے اپنی منڈیوں تک رسائی کی اجازت دے دیں تو اس میں دونوں کا فائدہ ہوگا۔

دونوں ممالک کے درمیان جاری امن مذاکرات کے بارے میں این پیٹرسن کا کہنا تھا کہ دونو ں ملکوں کی جانب سے دو طرفہ بات کئی رکاوٹوں کے باوجود بات چیت کا سلسلہ چل رہاہے مگر ابھی تک دونوں ملک اس سلسلے کوکوئی ٹھوس سیاسی یا معاشی ترقی کی شکل دینے میں ناکام رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 2007ءمیں پاکستان اور بھارت نے کشمیر کے حوالے سے کافی پیشرفت کی تھی مگر وہ سلسلہ آگے نہیں بڑھ سکا، تاہم حالیہ مذاکرات اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان اور بھارت ایک دوسرے کے ساتھ کسی بیرونی مدد کے بغیر بھی باضابطہ بات چیت کر سکتے ہیں۔

سابق امریکی سفیر این پیٹر سن کا کہناہے کہ انہوں نے جتنا عرصہ پاکستان میں گذارا ہے، اس کے پیش نظر وہ کہہ سکتی ہیں کہ پاک بھارت تعلقات کے مستقبل کے بارے میں اچھی توقعات رکھنی چاہیں۔

XS
SM
MD
LG