رسائی کے لنکس

پاک بھارت تعلقات معمول پر لانے پر اتفاق

  • ب

پاک بھارت وزرائے اعظم ملاقات

پاک بھارت وزرائے اعظم ملاقات

’’وزیراعظم گیلانی اور من موہن سنگھ کے درمیان ہونے والی ملاقات میں پاکستان اور بھارت کے درمیان امن کے عمل میں تعطل بھی ختم ہو گیا ہے جو پاکستان، بھارت اور علاقے کے لیے ایک اچھی خبر ہے۔‘‘

بھوٹان کے دارالحکومت تھمپومیں پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور ان کے بھارتی ہم منصب من موہن سنگھ کے درمیان ملاقات کو دونوں ملکوں کے عہدے داروں نے انتہائی مثبت اور اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ تقریباََ ایک گھنٹہ جاری رہنے والی اس ملاقات میں دو طرفہ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے بات چیت کا عمل شروع کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے ۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے دونو ں وزرائے اعظم کے درمیان ملاقات کے بعد صحافیو ں سے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ اُنھیں اور ان کے بھارتی ہم منصب کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ جلد سے جلد ملاقات کر کے معاملات کو آگے بڑھانے کے لیے طریقہ کار وضع کریں اوردونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کے فقدان کو دور کرنے کی کوشش کریں۔

وزیر خارجہ قریشی نے کہا کہ دونوں وزرائے اعظم کے درمیان ملاقات دوستانہ ماحول میں ہوئی اور اس کے اختتام بھی انتہائی مثبت رہا کیوں کہ دونوں ملکوں نے دو طرفہ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ ملاقات میں پاکستان اور بھارت کے درمیان امن کے عمل میں تعطل بھی ختم ہو گیا ہے جو پاکستان، بھارت اور علاقے کے لیے ایک اچھی خبر ہے۔

پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ملاقات میں بلوچستان میں بھارت کی مداخلت کا معاملہ بھی اٹھایا گیاجس پر وزیر اعظم من موہن سنگھ نے یقین دہانی کرائی کہ بھارت کو پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں اور نہ ہی بھارت پاکستان کے اندرونی معاملا ت میں مداخلت کر رہا ہے۔

شاہ محمود قریشی (فائل فوٹو)

شاہ محمود قریشی (فائل فوٹو)

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزیر اعظم گیلانی نے اپنے بھارتی ہم منصب کو یقینی دہانی کر ائی ہے کہ پاکستان ممبئی میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے عزم پر قائم ہے اور اس حوالے سے پاکستان میں عدالتی کارروائی جاری ہے ۔ تاہم اُنھوں نے کہا کہ دونوں ملکوں میں عدالتیں آزاد ہیں اور عدالتی عمل کا احترام سب پر لاز م ہے۔

XS
SM
MD
LG