رسائی کے لنکس

پاکستان بھارت سیمی فائنل: جذبات کا میچ

  • شہناز عزیز

پاکستان بھارت سیمی فائنل: جذبات کا میچ

پاکستان بھارت سیمی فائنل: جذبات کا میچ

دونوں ٹیموں کے حوصلے بلند ہیں، بہت اچھے مقابلے کی توقع ہے: نووی کپاڈیا

معروف بھارتی تجزیہ کار، نووی کپاڈیا نے کہا ہےکہ موہالی کرکٹ سیمی فائنل پاکستان وبھارت کے شائقین کے لیے ایک جذبات کا میچ بن چکا ہے۔

’کرکٹ ڈپلومیسی‘ کے عنوان سے وائس آف امریکہ کے حالاتِ حاضرہ کے پروگرام میں اُنھوں نے کہا کہ بھارت اور پاکستان عالمی کپ کرکٹ کے سیمی فائنل کی سطح پرایک دوسرے کے خلاف کبھی نہیں کھیلے۔ 1987ء میں پاکستان اور بھارت نے میزبانی کی تھی اور بڑی امید تھی کہ عمران خان اور کپیل دیو کی ٹیمیں فائنل میں کھیلیں گی، لیکن دونوں ٹیمیں سیمی فائنل میں ہی ہار گئی تھیں۔‘

نووی کپاڈیا نے کہا کہ آج دونوں ٹیموں کے حوصلے بلند ہیں اور بہت اچھے مقابلے کی امید ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ موہالی، واہگہ سرحد کے پاس ہی ہے إِس لیے پاکستان سے آنے والے شائقین کے لیے زیادہ دور نہیں۔

فلمی دنیا کی جانی پہچانی شخصیت، مہیش بھٹ کا کہنا تھا کہ ’لگتا ہے کہ ایک نئی صبح طلوع ہوئی ہے۔‘

اُنھوں نے بتایا کہ ہفتے کو ہی خیر سگالی کا ایک بھارتی وفد پاکستان کے دورے سے واپس بھارت پہنچا ہے۔ وفد کے تجربات بتاتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ دونوں طرف خیر سگالی کے جذبات ہیں۔ ’در اصل یہ میچ ایک بہانا ہے قریب آنے کا۔ میچ ایک ذریعہ ہے مقصد کے حصول کا، لیکن یہ خود کوئی مقصد نہیں ہے۔‘

سابق پاکستانی ٹیسٹ کرکٹر وسیم باری نے کہا ہے کہ دوستی کا یہ سفرکبھی رکنا نہیں چاہیئے۔

تفصیل جاننے کے لیے آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG