رسائی کے لنکس

” تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے مذاکرات بہترین راستہ “

  • ن ہ

” تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے مذاکرات بہترین راستہ “

” تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے مذاکرات بہترین راستہ “

بھارت اور پاکستان نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ دوطرفہ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے بہترین راستہ سنجیدہ اورجامع مذاکرات ہیں اور دونوں ملکوں کوکوشش کرنی چاہیے کہ دہشت گرد عناصر کو اس عمل میں رکاوٹ ڈالنے کا موقع نا ملے۔

ان خیالات کا اظہار بھارت کی سیکرٹری خارجہ نروپما راؤ اور ان کے پاکستانی ہم منصب سلمان بشیر نے جمعرات کے روز وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ملاقات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا۔

نروپما راؤ کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے وفود نے باہمی امور پر اپنا موقف بیان کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان اور بھارت کے درمیان اعتماد کی بحالی کے لیے طریقہ کار پر بھی تبادلہ خیال کیا تاکہ مستقل اور معنی خیز مذاکرات کے لیے راہ ہموار کی جا سکے۔” پاکستان اور بھارت کی حکومتوں کو عوام کی بہتری کے لیے موثر اقدامات اٹھانے ہوں گے کیوں کہ ان کا مستقبل ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔“

پاکستان کے سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ جمعرات کو ہونے والی ملاقات بہت مثبت رہی اور اس میں باہمی دلچسپی کے تمام معاملات زیر غور آئے۔انھوں نے کہاکہ بات چیت کے بعدوہ پر امید ہیں کہ آئندہ ماہ پاکستان اور بھارت کے وزرائے خارجہ کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات میں بہتری کے حوالے سے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔

اس سوال پر کہ کیا پاکستان کی فوجی قیادت بھارت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانا چاہتی ہے ، سلمان بشیر نے کہا کہ ملک کے تمام ادارے اور سیاسی قوتیں اس معاملے پر یکجا ہیں۔

واضح رہے کہ بھارتی شہر ممبئی میں نومبر 2008ء میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کے بعد پہلی مرتبہ بھارتی کا کوئی سرکاری وفد پاکستان آیا ہے جو مبصرین کے مطابق علاقائی امن کے لیے ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔

بھارت نے پاکستان میں سرگرم کالعدم انتہا پسند تنظیم لشکر طیبہ کو ممبئی حملوں کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے یک طرفہ طور پر امن مذاکرات کا سلسلہ منقطع کر دیا تھا۔ لیکن اس سال اپریل میں بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ اور ان کے پاکستانی ہم منصب یوسف رضا گیلانی کے درمیان بھوٹان میں ہونے والی ملاقات میں مذاکراتی سلسلے کو بحال کرنے پر اتفاق ہوا تھا۔

XS
SM
MD
LG