رسائی کے لنکس

بھارت نے جون سے ’35 مرتبہ فائربندی معاہدے کی خلاف ورزی کی‘: پاکستان


بھارتی فوجی لائن آف کنٹرول پر گشت کرتے ہوئے۔ (فائل فوٹو)

بھارتی فوجی لائن آف کنٹرول پر گشت کرتے ہوئے۔ (فائل فوٹو)

پاکستانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ کشمیر میں مار گرائے جانے والے ڈرون سے حاصل ہونے والی تصاویر اور ویڈیو سے واضح ہوتا ہے کہ وہ طیارہ بھارت ہی کے زیر استعمال تھا۔

پاکستانی فوج نے کہا ہے کہ کشمیر کو منقسم کرنے والی ’لائن آف کنٹرول‘ پر رواں ماہ مار گرائے جانے والی ’ڈرون‘ سے ایسی تصاویر ملی ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ جاسوس طیارہ بھارت ہی کا تھا۔

پاکستانی فوج کی طرف سے یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ 9 جون سے اب تک ’لائن آف کنٹرول‘ اور ورکنگ باؤنڈی پر بھارتی فورسز کی طرف سے فائربندی معاہدے کی 35 بار خلاف ورزی کی گئی۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ سے جاری ہونے والے ایک بیان کے ساتھ کچھ تصاویر بھی جاری کی گئیں اور دعویٰ کیا گیا ڈرون سے حاصل ہونے والی تصاویر اور ویڈیو سے واضح ہوتا ہے کہ وہ طیارہ بھارت ہی کے زیر استعمال تھا۔

پاکستانی فوج نے کہا تھا کہ 15 جولائی کو اُس نے بھارت کا ایک جاسوس طیارہ ’ڈرون‘ اُس وقت مار گرایا جب وہ ’لائن آف کنٹرول‘ پر بھمبر کے علاقے میں پاکستان کی حدود میں داخل ہوا۔

بیان کے مطابق ’’بھارتی حکام نے پاکستان کے اس دعویٰ کومسترد کیا کہ پاکستان نے اُس کا جاسوس طیارہ مارا گرایا، جب کہ ’ڈرون‘ سے حاصل کی گئی تصاویر اور ویڈیو سے ایسے ناقابل تردید شواہد ملے ہیں وہ (طیارہ) پاکستانی حدود میں جاسوسی کے لیے بھارت ہی کی طرف سے بھیجا گیا تھا‘‘۔

’آئی ایس پی آر‘ کے مطابق ’ڈرون‘ سے حاصل کردہ تصاویر میں سے ایک تصویر بھارت کی چوکی کی تھی جس پر واضح طور پر بھارتی پرچم لہراتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

پاکستانی فوج کی طرف سے جاری کردہ تصاویر کے مطابق ’ڈرون‘ بھارت کی ہی ایک چوکی سے اڑان بھرنے کے بعد پاکستان کی حدود میں داخل ہوا۔

پاکستان نے 16 جون کو اسلام آباد میں تعینات بھارت کے ہائی کمشنر کو وزارت خارجہ طلب کر کے اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر اُن کے احتجاج کیا تھا۔

بھارت کی طرف سے اس بات کی تردید کی گئی کہ مار گرایا جانے والا ڈرون اُس کا تھا۔

واضح رہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان کشمیر میں’لائن آف کنٹرول‘ کے علاوہ ’ورکنگ باؤنڈری‘ پر فائرنگ اور گولہ باری کے تبادلے کے باعث تعلقات میں کشیدگی آئی ہے۔

اگرچہ پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف اور اُن کے بھارتی ہم منصب نریندر مودی کے درمیان رواں ماہ روس کے شہر ’اوفا‘ میں ہونے والی ملاقات میں سرحد پر کشیدگی کم کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود عملی طور پر ایسا کچھ نہیں ہو سکا۔

واضح رہے کہ پیر کو پاکستانی سرحد کے قریب بھارتی ریاست پنجاب کے ضلع گرداس پور میں مشتبہ دہشت گردوں نے ایک بس اڈے پر حملے کے بعد پولیس اسٹیشن پر دھاوا بول دیا تھا اور اس دوران شدت پسندوں کی سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ کئی گھنٹوں تک جاری رہی، جس میں کم از کم 10 افراد ہلاک ہوئے۔

پاکستان نے گرداس پور میں ہونے والے دہشت گرد حملے کی مذمت کرتے ہوئے اس میں ہونے والے جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

وزارت خارجہ سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ پاکستان ہر طرح کی دہشت گردی کی شدید مذمت کرتا ہے۔

بھارت اپنے ہاں ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں کا الزام اکثر پاکستان میں موجود کالعدم تنظیموں پرعائد کرتا آیا ہے اور پیر کو بھی بھارتی عہدیدار کا کہنا تھا کہ اس تازہ واقعے میں بیرونی ہاتھ کے ملوث ہونے کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔

نومبر 2008ء کو ممبئی میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کا الزام بھی پاکستان میں موجود کالعدم تنظیم لشکر طیبہ پر عائد کیا گیا تھا جب کہ پاکستان نے اپنے ہاں اس حملے کے مبینہ منصوبہ ساز ذکی الرحمن لکھوی سمیت چھ افراد کے خلاف قانونی کارروائی بھی شروع کر رکھی ہے۔

ذکی الرحمٰن لکھوی کو پاکستان کی ایک عدالت نے گزشتہ ماہ ضمانت پر رہا کر دیا تھا جس پر بھارت کی طرف سے شدید تحفظات کا اظہارکرتے ہوئے یہ الزام بھی لگایا گیا کہ پاکستان ممبئی حملوں میں ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچانے میں سنجیدہ نہیں۔

تاہم پاکستان کا موقف ہے کہ وہ عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد کا پابند ہے جب کہ بھارت سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ ممبئی حملوں سے متعلق ضروری شواہد فراہم کرے تاکہ مقدمے کو جلد از جلد منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔

XS
SM
MD
LG