رسائی کے لنکس

پاک بھارت تجارت صارفین کےلیے فائدہ مند


پاک بھارت تجارت صارفین کےلیے فائدہ مند

پاک بھارت تجارت صارفین کےلیے فائدہ مند

دیرپا ترقی اور منصوبہ سازی کے ایک غیر سرکاری ادارے ایس ڈی پی اے کے زیر اہتمام رواں ہفتے اسلام آباد میں امن کے قیام میں تجارت کے کردار کے حوالے ایک سیمنار منعقد کیا گیا جس میں پاکستان اور بھارت کے اقتصادی ماہرین نے شرکت کی۔ ماہرین نے تجارت کے فروغ کے لیے بینکاری نظام میں بہتری اور تجارت کی راہ میں حائل دیگررکاوٹیں دور کرنے پر زور دیا۔

سیمنار میں شریک بھارت سے تعلق رکھنے والے اقتصادی ماہر پردیپ مہیتہ نے کہا کہ ماضی میں دونوں ملکوں کے مابین محدود تجارتی مواقع کے نتیجے میں غیر قانونی تجارت کا حجم دو طرفہ تجارت کے مقابلے میں زیادہ ہے۔

انھوں نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ تنازعات کو پیچھے رکھ کا تجارت کوبڑھانا چاہیے۔ کیونکہ ہمسایہ ملک سے تجارت سے نقل و حمل کی لاگت کم ہو جاتی ہے اور عام صارفین کو فائدہ ہوتا ہے۔

سمینار سے خطاب کرتے ہوئے ایس ڈی پی ائی کے ایگزیکٹو ڈائر یکٹر ڈاکٹر عابد سلہری نے کہا کہ دونوں ملکوں میں اعتماد کی فضا قائم ہونا ایک خوش آئند بات ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کی برآمدی مصنوعات کی روایتی منڈیاں جن میں امریکہ یورپی اور مشرق وسطیٰ کی منڈیاں شامل ہیں، اقتصادی مسائل سے دوچار ہیں ایسے میں پاکستان کو ہمسایہ ملک بھارت سمیت نئی منڈیوں کو تلاش کرنا ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ڈاکٹر عابد سلہری نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے مابین تنازعات کے حل تک تجارتی روابط کو محدود نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ’’تجارت بڑھنے سے باہمی رابطے بھی بڑھیں گے اور اس سے دیرینہ تنازعات حل کرنے کے نزدیک پہنچ رہے ہوں گے۔ ‘‘

رواں سال کے اوائل سے پاکستان اور بھارت کے مابین تنازعات کے حل کے لیے جامع مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کے بعد تجارت کے فروغ سمیت دیگر شعبوں میں تعاون کے لیے اقدامات کئے جا رہے ہیں اور اسی سلسلے میں گزشتہ ماہ پاکستان کی کابینہ نے بھارت کو تجارت کے لیے پسندیدہ ترین ملک ایم ایف این کا درجہ دینے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد نئی دہلی میں سیکرٹری تجارت کی سطح پر ہونے والے مذاکرات میں تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے اور دونوں ممالک کی تاجر برادی کے لیے ویزہ شرائط نرم کرنے پر اتفاق رائے بھی قائم ہوا تھا۔

XS
SM
MD
LG