رسائی کے لنکس

پاک بھارت تجارتی روابط پر مذاکرات


پاک بھارت تجارتی روابط پر مذاکرات

پاک بھارت تجارتی روابط پر مذاکرات

پاکستان بھارت کے درمیان وزارت تجارت کے سیکرٹریوں کی سطح پر دو روزہ مذاکرات جمعرات کو بغیر کسی نمایاں پیش رفت کے اسلام آباد میں ختم ہوگئے۔ تاہم دونوں ممالک نے تجارتی روابط بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔

دوطرفہ تجارتی روابط کو بہتر کرنے کے لیے بھارت اور پاکستان کے وفود کے درمیان مذاکرات کے اختتام پر ایک مشترکہ اعلامیہ میں دونوں ملکوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ باہمی اعتماد کی بحالی کے لیے تجارت کے حجم اور اقتصادی روابط میں اضافہ اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

بات چیت کے بعد پاکستانی وفد کے سربراہ سیکرٹری تجارت ظفر محمود نے بتایا کہ تجارتی روابط بڑھانے کے لیے پاکستان اور بھارت نے ایک مشترکہ گروپ تشکیل دینے پر اتفاق کیا ہے جو اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت میں پیش رفت کا جائزہ لے گا۔

دونوں ملکوں میں کاروباری طبقے کے لیے ماحول کو سازگار بنانے کی کوششوں کے سلسلے میں تاجروں کے لیے ویزوں کے اجراء میں آسانی، واہگہ۔ اٹاری زمینی راستے کے ذریعے تجارت میں اضافے سمیت دیگر اُمور پر فریقین نے بات چیت جاری رکھنے اور عملی اقدامات کی راہیں تلاش کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔

ظفر محمود نے بتایا کہ اقتصادی روابط کو فروغ دینے کے سلسلے میں بھارت میں پاکستانی اور پاکستان میں بھارتی بینکوں کی شاخیں کھولنے پر بھی بات چیت کی گئی جب کہ سرمایہ کاری کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔

دوروزہ مذاکرات میں بھارتی وفد کی قیادت سیکرٹری تجارت راہل کھلڑ نے کی اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے فروغ کے لیے یہ بات چیت کا پانچواں دور تھا۔ ان مذاکرات کے لیے پہلے سے ایجنڈا طے نہیں کیا گیا اور مشترکہ اعلامیے کے وقت بھی بھارت کے سیکرٹری موجود نہیں تھے۔

مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ عالمی تجارت کی تنظیم’ ڈبلیو ٹی او‘ کے تحت بھارت کو انتہائی پسندیدہ ملک کا درجہ دینے سے دوطرفہ تجارت کو وسعت دینے میں مدد ملے گی تاہم اس بارے میں بیان میں مزید کوئی تفصیلات نہیں دی گئی ہیں۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ بھارت نے پاکستان کو پہلے ہی ڈبلیو ٹی او کے تحت انتہائی پسندیدہ ملک کا درجہ دے رکھا ہے ۔

XS
SM
MD
LG