رسائی کے لنکس

پانی سے متعلق تنازعات سندھ طاس معاہدے کے تحت حل کرنے کا عزم


پانی سے متعلق تنازعات سندھ طاس معاہدے کے تحت حل کرنے کا عزم

پانی سے متعلق تنازعات سندھ طاس معاہدے کے تحت حل کرنے کا عزم

بھارتی وفد کے سربراہ ارنگا ناتھن کا کہنا تھا کہ ان کے ملک نے اپنے یہاں جو بھی منصوبے شروع کیے ہیں وہ سندھ طاس معاہدے کے مطابق ہی ہیں لیکن ان کے بقول پاکستان نے منصوبوں کو ایک مختلف تکنیکی زاویے سے دیکھتے ہوئے اپنے اعتراضات اٹھائے ہیں

پاکستان اور بھارت نے کہا ہے کہ وہ پانی سے متعلق اپنے دو طرفہ تنازعات کا حل 1960ء کے سندھ طاس معاہدے کے مطابق تلاش کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔

یہ بات دونوں ملکوں کے انڈس واٹرز کمیشن نے لاہور میں جاری اپنے سالانہ تین روزہ اجلاس کے دوسرے روز کی بات چیت کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہی۔

بھارتی وفد کے سربراہ ارنگا ناتھن کا کہنا تھا کہ ان کے ملک نے اپنے یہاں جو بھی منصوبے شروع کیے ہیں وہ سندھ طاس معاہدے کے مطابق ہی ہیں لیکن ان کے بقول پاکستان نے منصوبوں کو ایک مختلف تکنیکی زاویے سے دیکھتے ہوئے اپنے اعتراضات اٹھائے ہیں۔

مسٹر ناتھن کا کہنا تھا کہ بھارت پاکستان کے خدشات کا جائزہ لے گا اور ان کو دور کرنے کی کوشش کرے گا۔ اس سوال پر کہ پاکستان کو متنازعہ آبی منصوبوں کے بارے میں معلومات کی فراہمی میں تعطل کیوں ہوتا ہے بھارتی انڈس واٹر کمشنر نے کہا کہ تمام دستیاب معلومات بروقت فراہم کی گئی ہے لیکن ان کے مطابق پاکستان بعض ایسے منصوبوں کی معلومات بھی مانگ لیتاہے جو دستیاب نہیں ہوتیں کیونکہ متعلقہ منصوبے نہ تو منظور شدہ ہوتے ہیں اور نہ ہی ان پر کام شروع ہوا ہوتاہے۔

تاہم اس بارے میں پاکستان کے انڈس واٹر کمشنر جماعت علی شاہ کا کہنا تھا کہ جاری اجلاس میں جن دو منصوبوں پر بات چیت ہو رہی ہے ان پر کام شروع ہو چکا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ”بھارت کا نقطہ نظر اپنی جگہ لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ نمو بازگو کی معلومات بروقت جب کہ چوتک پاور پلانٹ کی معلومات تاخیر سے فراہم کی گئی“۔

جماعت علی شاہ کے مطابق یہی وہ معاملات ہیں جن کو سندھ طاس معاہدے کی روشنی میں طے کرنے کی ضرورت ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھاکہ اگر دو طرفہ مفاہمت کے تحت پانی کے تنازعات حل نہیں ہوئے تو غیر جانب دار ماہرمقرر کیے جانے یا عالمی عدالت ثالثی سے رجوع کرنے کے راستے بہر حال موجود ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان جو پانی کی سنگین قلت کی جانب بڑھتا دیکھائی دے رہا ہے اس تشویش کا اظہار کرتا ہے کہ بھارت اپنے زیر انتظام کشمیر میں آبی منصوبوں کے ذریعے اس کو اس کے حصے کے پانی سے محروم کر سکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG