رسائی کے لنکس

انٹیلی جنس معلومات پر 10 ہزار سے زائد آپریشن کیے گئے: وزیر داخلہ


وزیر داخلہ چوہدری نثار

وزیر داخلہ چوہدری نثار

چودھری نثار کا کہنا تھا کہ ابھی یہ جنگ ختم نہیں ہوئی "ہم نے اُن کے لیے زمین تنگ کر دی ہے اس کے لیے ہم سب کو اور زیادہ متحرک ہونا پڑے گا۔‘‘

پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ ملک میں دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر 10 ہزار آپریشن کیے جا چکے ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ نے ہفتے کو ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا کہ دہشت گرد اب معصوم ترین اور غیر محفوظ لوگوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

’’جون 2014ء جب سے فوجی آپریشن شروع ہوا، پچھلے ہفتے تک پاکستان کے طول عرض میں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر 10 ہزار سے زائد آپریشن کیے گئے ہیں۔۔۔ یہ کیوں کوئی نہیں سوچتا کہ دھماکے کم ہو گئے ہیں۔‘‘

اُن کا کہنا تھا کہ دہشت گرد قوم کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں جس سے نمٹنے کے لیے سیاسی جماعتوں کو قومی اتحاد کا پیغام دینا چاہیئے۔

’’جب دہشت گردی کی کارروائی ہوتی ہے تو اُس کا مقصد یہ ہے کہ قوم مفلوج ہو جائے، یہ آپس میں لڑنے لگ پڑے۔ اس کی توجہ دہشت گردوں کی طرف نہیں اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں کی طرف ہو۔‘‘

وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی ابھی ختم نہیں ہوئی ہے اور اُن کے بقول اسے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا جس کے لیے قوم کو مل کر کردار ادا کرنا ہو گا۔

’’ابھی یہ جنگ ختم نہیں ہوئی، ہم نے اُن کے لیے زمین تنگ کر دی ہے لیکن کسی بھی محلے، گلی میں جا کر غیر محفوظ لوگوں کو نشانہ بنانا آسان کام ہے۔ اس کے لیے ہم سب کو اور زیادہ متحرک ہونا پڑے گا۔‘‘

اُن کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں نے اپنی کارروائیوں سے صرف پاکستان نہیں بلکہ اسلام کے تشخص کو متاثر کیا ہے۔

’’ہم زیادہ عزم سے ان دہشت گردوں کے خلاف لڑیں گے جنہوں نے صرف پاکستان کا نہیں اسلام کا چہرہ مسخ کر رکھا ہے۔ یہ اسلام کا نام لے کر دہشت گردی کرتے ہیں۔۔۔۔۔ یہ خودکش دھماکوں سے بے کس اور معصوم لوگوں کو اُڑانا اسلام نہیں ہے، ہم اس کے خلاف لڑ رہے ہیں‘‘۔

پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخواہ کے دارالحکومت پشاور میں گزشتہ سال 16 دسمبر کو طالبان جنگجوؤں کے مہلک حملے میں 134 بچوں سمیت 150 سے زائد افراد کی ہلاکت کے بعد پاکستان نے ملک بھر میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر رکھی ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے علاوہ اُن کی معاونین کو بھی ختم کیا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG