رسائی کے لنکس

پاک ایران سرحد کی نگرانی سے متعلق معاہدہ


پاکستانی وزیر داخلہ کی ایران کے صدر سے ملاقات

پاکستانی وزیر داخلہ کی ایران کے صدر سے ملاقات

وزرائے داخلہ نے دونوں ملکوں کی سرحد پر غیر قانونی اسلحے، غیر قانونی طور پر رقوم کی ترسیل یا منی لانڈرنگ، جعلی سفری دستاویزات اور دھماکا خیز مواد کی آمد و رفت روکنے سے متعلق معاہدے پر دستخط کیے۔

ایران کے وزیر داخلہ مصطفی محمد نجار کی دعوت پر اُن کے پاکستانی ہم منصب رحمٰن ملک پیر کو تہران گئے تھے جہاں ملاقات میں پاک ایران سرحد پر منشیات اور انسانی سمگلنگ کی روک تھام کے علاوہ سرحد کی نگرانی سخت کرنے سے متعلق اُمور پر بات چیت کی گئی۔

پاکستان اور ایران کے وزرائے داخلہ نے دونوں ملکوں کی سرحد پر غیر قانونی اسلحے، غیر قانونی طور پر رقوم کی ترسیل یا منی لانڈرنگ، جعلی سفری دستاویزات اور دھماکا خیز مواد کی آمد و رفت روکنے سے متعلق معاہدے پر دستخط کیے۔

وزیرداخلہ رحمٰن ملک نے بتایا کہ پاکستان کی وفاقی کابینہ ایران کے ساتھ سرحد پر سکیورٹی معاہدے کی پہلے ہی منظوری دے چکی تھی اور اس کو عملی شکل دینے کے لیے اس پر دستخط کیے گئے ہیں۔

رحمٰن ملک کا کہنا تھا کہ اس معاہدے میں پاک ایران سرحد سے متعلق تمام اُمور کا احاطہ کیا گیا ہے۔

’’ہماری کوشش ہے کہ (پاک ایران) سرحد پر ایسی خلاف ورزیاں نا ہوں جو دونوں ملکوں کے درمیان غلط فہمیوں کی وجہ بن سکے۔‘‘

دونوں ممالک نے اس معاہدے پر عمل درآمد کو یقینی بنانے اور اس کا وقتاً فوقتاً جائزہ لینے کے لیے مشترکہ گروپ تشکیل دینے کا بھی فیصلہ کیا۔

پاکستان کے سرکاری میڈیا کے مطابق رحمٰن ملک نے ایران کے صدر محمود احمدی نژاد سے بھی ملاقات کی جس میں ایرانی صدر نے سرحد پر درپیش مشکلات پر قابو پانے کے لیے نئی چوکیاں قائم کرنے پر بھی رضا مند کا اظہار کیا ہے۔
XS
SM
MD
LG