رسائی کے لنکس

”نئی پابندیاں پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کو متاثر نہیں کریں گی“

  • حسن سید

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر گذشتہ ماہ اسلام آباد میں دستخط ہوئے

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر گذشتہ ماہ اسلام آباد میں دستخط ہوئے

پاکستان کا کہنا ہے کہ ایران پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے تازہ پابندیاں عائد کیے جانے سے پڑوسی ملک کے ساتھ اربوں ڈالر لاگت کا گیس پائپ لائن کا منصوبہ متاثر نہیں ہوگا۔

اسلام آباد میں ہفتہ وار نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دفتر خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے کہا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد کے تحت جو پابندیاں عائد کی گئی ہیں وہ ایران کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام کے حوالے سے ہیں جب کہ ایران پاکستان گیس پائپ لائن کا منصوبہ خالصتاً تجارتی نوعیت کا ہے جو ترجمان کے مطابق قرارداد کے تحت عائد پابندیوں کے دائرے میں نہیں آتا۔

اس سوال پر کہ کیا ایران پر پابندیوں کا عائد کیا جاتا ایک امتیازی اقدام ہے یا اس کے خطے پر کیا ممکنہ اثرات مرتب ہوسکے ہیں ،عبدالباسط کا کہنا تھا کہ وہ اس ضمن میں کوئی تبصرہ یا قیاس آرائی نہیں کرنا چاہتے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق تنازع کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیتا آرہا ہے اور آئندہ بھی اس مسئلے پر اختلافات کو بامقصد سفارتکاری کے ذریعے طے کرنے کے لیے فریقین کی حوصلہ افزائی کرے گا۔

اس پائپ لائن سے پاکستان کو روزانہ 75کروڑ سے ایک ارب کیوبک فٹ گیس حاصل ہوسکے گی اور یہ منصوبہ 2014ء کے آخر تک مکمل کیا جائے گا۔

امریکہ ایران کے متنازع جوہری پروگرام کے تناظر میں اس منصوبے کی مخالفت کرتا رہا ہے جب کہ توانائی کے سنگین بحران کا شکار پاکستان کا مئوقف رہا ہے کہ یہ منصوبہ اس کے مفاد میں ہے کیونکہ اس سے حاصل ہونے والی گیس سے پانچ ہزار میگا واٹ بجلی پیدا ہوسکے گی۔

پاکستانی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس منصوبے سے امریکہ کے ساتھ اس کا تعاون متاثر نہیں ہوگا کیونکہ ان کے مطابق واشنگٹن کو اسلام آباد کے مسائل اور ضروریات کا پوری طرح احساس ہے۔

XS
SM
MD
LG