رسائی کے لنکس

تجارت کے لیے جن سرحدی اضلاع کی نشاندہی کی گئی ہے وہاں نہ تو زراعت ہے اور نہ کارخانے جبکہ بجلی کا بھی مناسب انتظام نہیں ہے۔

پاکستان اور ایران نے بلوچستان کے سرحدی اضلاع میں محدود دوطرفہ تجارت کے فروغ پر اتفاق کیا ہے جس کا مقصد ان علاقوں میں پسماندگی کا شکار مقامی آبادی کو روزگار اور کاروبار کے مواقع فراہم کرنا ہے۔

بلوچستان کے سیکرٹر ی داخلہ نصیب اللہ بازئی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں اس کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ مقامی سطح پر دو طرفہ تجارت کے فروغ کے لیے جن پانچ سرحدی علاقوں میں منڈیاں قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے ان میں چاغی ، پنجگور ، تر بت، واشک اور گوادر شامل ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مقامی لوگوں کو روزگار کے مواقع مہیا کرنے کے لیے ایسی تجاویز پر عملدرآمد ضروری ہوچکا ہے۔

’’علاقے کی صورت حال کو دیکھتے ہوئے (اس تجارت کو) ٹیکس نیٹ میں بھی لے آئیں گے۔ نسبتاً اس (ٹیکس) کی شرح کم ہو گی تاکہ علاقے میں کاروبار کو فروغ ملے۔ شاید (ان علاقوں) کے لوگ اپنا کاروبار اس پیمانے پر نہیں کرتے کہ وہ اتنا ٹیکس دے سکیں جو ملک دوسرے حصوں سے اکٹھا کیا جاتا ہے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ سر دست ضلع کیچ کے علاقے میں پہلی منڈی قائم کرنے کی تجویز پر تیزی سے کام ہو رہا ہے اور جولائی کے تیسرے ہفتے میں کو ئٹہ میں پاکستانی اور ایرانی عہدے داروں کے اجلاس میں دیگر منڈیوں کے قیام کی تفصیلات طے کی جائیں گی۔

صوبائی سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ ان منڈیوں کے حوالے سے وفاقی اداروں فیڈرل بورڈ آف ریونیو ’’ایف بی آر‘‘ اور وزارت تجارت سے ابتدائی مشاورت مکمل کر لی گئی ہے اور انھیں بتایا گیا ہے کہ تجارت کے لیے جن سرحدی اضلاع کی نشاندہی کی گئی ہے وہاں نہ تو زراعت ہے اور نہ کارخانے جبکہ بجلی کا بھی مناسب انتظام نہیں ہے۔

نصیب اللہ بازئی نے کہا کہ جولائی کے پاک ایران اجلاس میں سر حد ی اضلاع میں مقامی سطح پر تجارت کے فروغ کے علاوہ سمندری حدود میں غلطی سے داخل ہونے والے مچھیروں اور اُن کی کشتیوں کا معاملہ بھی زیر غور آئے گا۔
XS
SM
MD
LG