رسائی کے لنکس

استنبول اجلاس میں پیش رفت پاکستان کے لیے باعث اطمینان


استنبول اجلاس میں پیش رفت پاکستان کے لیے باعث اطمینان

استنبول اجلاس میں پیش رفت پاکستان کے لیے باعث اطمینان

دفتر خارجہ کی ترجمان تہمینہ جنجوعہ نے جمعرات کو ہفتہ وار نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ استنبول میں پاکستان، افغانستان اور ترکی کے صدور کے اجلاس کے بعد سامنے آنے والا مشترکہ اعلامیہ پڑوسی ملک افغانستان میں امن و استحکام کے حصول کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

تہمینہ جنجوعہ نے کہا کہ اسلام آباد نے افغانستان میں امن و استحکام کی تمام علاقائی اور بین الاقوامی کوششوں کی حمایت کی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ ترکی میں ہونے والے حالیہ سہ فریقی اجلاس میں تینوں ممالک کی افواج کی مشترکہ مشقوں اور تربیت پر اتفاق ہوا ہے جو ایک اہم پیش رفت ہے۔

استنبول اجلاس میں پیش رفت پاکستان کے لیے باعث اطمینان

استنبول اجلاس میں پیش رفت پاکستان کے لیے باعث اطمینان


دفتر خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ پاکستان روز اول سے اس موقف پر قائم ہے کہ افغانستان میں امن و استحکام خود پاکستان کے مفاد میں بھی ہے اس لیے اس مقصد کے حصول کے لیے کی جانے والی کوششوں میں وہ اپنا ہر ممکن کردار ادا کرے گا۔

دریں اثنا وفاقی وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے کہا کہ ترکی میں ان کی افغان ہم منصب سے ہونے والی ملاقات انتہائی مفید رہی اور بات چیت کو آگے بڑھانے کے لیے نومبر کے اواخر میں افغانستان کے وزیر داخلہ پاکستان بھی آئیں گے۔

پارلیمان کے باہر ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں رحمٰن ملک نے پاک افغان سرحد پر غیر قانونی نقل و حمل کو روکنے کے لیے ایک مرتبہ پھر فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔

’’مل کر سرحد کی نگرانی اور انتظام کے جتنے مسائل ہیں ان کو دیکھا جائے، کیوں کہ یہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے، یہ ایک بہت بڑا ذریعہ ہے سرحد پار دہشت گردی کا۔ ہمیں تو نہیں پتہ کہ کون آ رہا ہے کون جا رہا ہے۔ ترکی میں جو سہ فریقی اجلاس ہوا اور دونوں ملکوں (پاکستان افغانستان) کے سربراہان کے درمیان جو بات چیت ہوئی اس کے نتائج بہت اچھے آئیں ہیں۔ ہم پروفیسر برہان الدین ربانی کے قتل کی تحقیقات میں (افغانستان سے) پورا تعاون کریں گے۔‘‘

پاکستان کا موقف ہے کہ روزانہ 45 ہزار افغان شہری پاکستان میں داخل ہوتے ہیں جن میں سے دہشت گردوں اور سیاحوں کی تفریق کرنا نا ممکن ہے اس لیے دونوں ملکوں کو سرحد آر پار آنے جانے والوں کی جانچ پڑتال کے لیے ایک موثر نظام وضع کرنے کی ضرورت ہے۔

رحمٰن ملک نے کہا تھا کہ افغانستان نے اگر اپنی جانب غیر قانونی نقل و حرکت کو روکنے کے لیے اقدامات نا کیے تو پاکستان 30 نومبر سے اپنی سرحد پر بائیو میڑک سسٹم نافذ العمل کر دے گا۔

XS
SM
MD
LG