رسائی کے لنکس

بنوں: مرکزی جیل سے مشتبہ جنگجوؤں سمیت 384 قیدی فرار

  • شمیم شاہد

بنوں شہر کی مرکزی جیل پر اتوار کی صُبح طالبان جنگجوؤں کے ایک منظم حملے میں لگ بھگ 384 قیدی فرار ہو گئے ہیں۔

یہ جنوب مغربی پاکستانی شہر مقامی اور غیر ملکی عسکریت پسندوں کا گڑھ سمجھے جانے والے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کے قریب واقع ہے۔

صوبائی حکام نے بتایا ہے کہ فرار ہونے والوں میں بڑی تعداد مشتبہ طالبان شدت پسندوں کی ہے جن میں کم از کم 20 انتہائی مطلوب قیدی بھی شامل ہیں۔ ان میں رشید عدنان نامی شدت پسند سابق صدر پرویز مشرف پر قاتلانہ حملے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے اپنے چہرے چھپا رکھے تھے اور کارروائی کے دوران اللہ اکبر کے نعرے لگا رہے تھے۔

بنوں سینٹرل جیل کے مرکزی گیٹ پر تعینات ایک پولیس اہلکار میر لئیق نے وائس آف امریکہ کی پشتو سروس ’دیوہ‘ سے گفتگو میں حملے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہ کہا کہ حملہ آور تقریباً رات ڈیڑھ بجے وہاں پہنچے اور اطراف کی تمام سڑکوں کو بند کر دیا۔

’’حملہ آوروں کے پاس بھاری مقدار میں اسلحہ موجود تھا اور اُنھوں مرکزی گیٹ کو بارودی مداد سے تباہ کر دیا۔‘‘

میر لئیق نے بتایا کہ جنگجو بار بار عدنان رشید کا نام پکار رہے تھے، جو پاکستان فضائیہ کا سابق اہلکار اور پرویز مشرف پر قاتلانہ حملوں کے الزام میں قید تھا۔

جیل میں 950 سے زائد قیدی موجود تھے مگر مقامی پولیس کے بقول حملہ آوروں نے صرف اُن چھ بیرکوں کے تالے توڑے جہاں اہم قیدیوں کو رکھا گیا تھا اور فرار ہونے والوں میں کم از کم پانچ خواتین قیدی بھی شامل ہیں۔

اس کارروائی میں کم از کم تین پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاع دی گئی ہے جو بظاہر اس امر کی نشاندہی ہے کہ حملہ آوروں کو زیادہ مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

کالعدم تحریک طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ کارروائی اُس کے جنگجوؤں نے کی ہے۔

پولیس نے فرار ہونے والے بعض قیدیوں کو دوبارہ گرفتار کرنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔

اس کے علاوہ فرار ہونے والے قیدیوں میں 20 کو پھانسی کی سزا ہو چکی تھی۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG