رسائی کے لنکس

پاکستانی صحافی کے قتل کی تحقیقاتی رپورٹ کے اجرا کا مطالبہ


پاکستانی صحافی کے قتل کی تحقیقاتی رپورٹ کے اجرا کا مطالبہ

پاکستانی صحافی کے قتل کی تحقیقاتی رپورٹ کے اجرا کا مطالبہ

سی پی جے نے صدر پاکستان کے نام خط میں کہا ہے کہ مقتول حیات اللہ کے بھائی احسان احمد خان نے تنظیم سے رابطہ کر کے بتایا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ تحقیقاتی رپورٹ کا اجرا کیا جائے تاکہ اُنھیں معلوم ہو سکے کہ اُن کے بھائی کا قاتل کون ہیں۔ ’’ ہمیں دنیا کے سامنے اپنے بھائی کے قاتلوں کی شناخت کرنے کی ضرورت ہے اور قاتلوں کی پہچان نہیں بلکہ اس قتل کے احکامات جاری کرنے والوں کی شناخت بھی ضروری ہے۔‘‘

صحافیوں کے تحفظ کی علمبردارایک بین الاقوامی تنظیم نے لواحقین کے ساتھ مل کر حکومت پاکستان سے شمالی وزیرستان کےصحافی حیات اللہ خان کےاغوا اور قتل کی تحقیقاتی رپورٹ کے اجرا کا مطالبہ کیا ہے۔

مقتول قبائلی صحافی کو نامعلوم افراد نے5 دسمبر 2005 کومیرعلی میں اُن کے گھر کے قریب سے اغوا کرنے کے بعد قتل کر دیا تھا جس پر مقامی اور بین الاقوامی صحافتی تنظیموں کی طرف سے شدید احتجاج کے بعد اُس وقت ملک کے فوجی صدر پرویزمشرف نے ہائی کورٹ کے جج کی سربراہی میں اس واقعہ کی تحقیقات کا حکم جاری کیا۔ یہ تفتیش ستمبر 2006 میں مکمل کر لی گئی لیکن تاحال نامعلوم وجوہات کی بنا پر حکومت اس کے نتائج منظر عام پر لانے سے گریزاں ہے۔

حیات اللہ کے اغوا سے ایک روز قبل مقامی اور بین الاقوامی میڈیا میں اُن کی لی گئی وہ تصاویر شائع ہوئی تھیں جن میں میرعلی میں ایک گھر پر لگنے والے امریکی ساختہ ہیل فائر میزائل کی باقیات دکھائی گئی تھیں۔

شمالی وزیرستان میں کیے گئے اس مبینہ امریکی میزائل حملے میں القاعدہ کا ایک اہم رہنما حمزہ ربعیہ مارا گیا تھا۔ ان تصاویر کے منظر عام پر آنے کے بعد پاکستانی حکومت کے ان دعوؤں کی صریحاً نفی ہوئی تھی کہ یہ حملہ امریکی ذرائع سے نہیں کیا گیا۔

رواں ہفتے اس واقعہ کو چھ سال مکمل ہونے پر نیویارک میں قائم’کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس‘( سی پی جے) نے صدر آصف علی زرداری کے نام ایک خط میں کہا ہے کہ تنظیم کے ایک اعلیٰ سطحی وفد کی صدر مملکت اور وفاقی وزیر داخلہ رحمٰن ملک کے ساتھ اس سال 3 اور 4 مئی کو ہونے والی ملاقاتوں میں پاکستانی قیادت نے وعدہ کیا تھا کہ جسٹس محمد رضا خان کی تحقیقاتی رپورٹ کے نتائج منظرعام پر لائے جائیں گے جبکہ 2002ء سے اب تک پاکستان میں قتل ہونے والے 15 دیگر صحافیوں کے بارے میں تنظیم کی تیار کردہ رپورٹ کے بارے میں بھی معلومات فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔

’’ ان میں سے کسی پر بھی پیش رفت نہیں ہوئی ہے بلکہ جب سے ہم نے اپنی رپورٹ (پاکستانی رہنماؤں کو) پیش کی ہے تب سے اب تک چار مزید پاکستانی صحافی ہدف بنا کر قتل کیے جا چکے ہیں اور ان میں سے کسی بھی واقعہ کے مرتکب افراد کو تاحال انصاف کے کٹہرے میں نہیں لایا گیا۔‘‘

سی پی جے نے صدر پاکستان کے نام خط میں کہا ہے کہ مقتول حیات اللہ کے بھائی احسان احمد خان نے تنظیم سے رابطہ کر کے بتایا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ تحقیقاتی رپورٹ کا اجرا کیا جائے تاکہ اُنھیں معلوم ہو سکے کہ اُن کے بھائی کا قاتل کون ہیں۔ ’’ ہمیں دنیا کے سامنے اپنے بھائی کے قاتلوں کی شناخت کرنے کی ضرورت ہے اور قاتلوں کی پہچان نہیں بلکہ اس قتل کے احکامات جاری کرنے والے کی شناخت بھی ضروری ہے۔‘‘

تنظیم نے صدر زرداری کے نام اپنے خط میں کہا ہے کہ جسٹس محمد رضا خان کی رپورٹ اُن کی حکومت کے ہاتھوں میں ہے۔

’’اس کو جاری کرنا حکومت کے لیے ایک آسان معاملہ ہے۔ ہم اس رپورٹ کے اجرا اور 2002 سے اب تک پاکستان میں ہدف بنا کر قتل کیے گئے 19 دیگر صحافیوں کے بارے میں رحمن ملک کی تفصیلات کے منتظر ہیں۔‘‘

حیات اللہ کے اغوا کے وقت گھر کے باہر احسان بھی اپنے بھائی کےساتھ موجود تھا۔ اُن کے مطابق پانچ مسلح افراد سفید رنگ کی ٹویوٹا پک اَپ میں آئے اورحیات اللہ کو اپنے ساتھ لے گئے۔ چھ ماہ بعد 16 جون 2006 کواس قبائلی صحافی کی گولیوں سے چھلنی لاش میران شاہ بازار کے قریب پھینک دی گئی تھی جس کے دونوں ہاتھ کمر کے پیچھے ہتھکڑی سے بندھے ہوئے تھے۔

XS
SM
MD
LG