رسائی کے لنکس

پاکستانی کشمیر میں شکار پر پابندی کا فیصلہ

  • یاسر علی منصوری

پاکستانی کشمیر کے اعلٰی عہدیدار نعیم ڈار کا کہنا تھا کہ جنگلی حیات کو سب سے زیادہ نقصان غیر قانونی شکار کے باعث ہوا اس لیے شکار پر تین سال کی پابندی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جنگلی حیات کے تحفظ کی غرض سے علاقائی حکومت نے جانوروں کے ہر قسم کے شکار پر تین سال کے لیے پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

کشمیر میں محکمہ جنگلی حیات کے ڈپٹی ڈائریکٹر نعیم افتخار ڈار نے جمعہ کو وائس آف امریکہ سے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ پاکستانی کشمیر کا علاقہ بہت سے نایاب جنگلی جانوروں کی آخری آماجگاہ بن چکا ہے اور شکار پر پابندی کا فیصلہ بھی ایسے جانوروں کی نسل کو بچانے کے لیے ہی کیا گیا ہے۔

’’مختلف نایاب حیات یہاں پائی جاتی ہے جس میں برفانی چیتا، کالا ریچھ، کستوری والا ہرن…اسی طرح سے جنگلات کے حوالے سے بھی کشیمر کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔‘‘

اُنھوں نے کہا مسلسل بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث کشمیر کے اس حصے میں جنگلات کا رقبہ بھی تیزی سے محدود ہو رہا ہے جس سے جنگلی جانوروں کی تعداد میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔

’’اس وقت ہمارے پاس اٹھارہ محفوظ علاقے ہیں جن میں سات نیشنل پارک اور 12 گرین ریزرو ہیں، شکار پر پابندی اور جو غیر قانونی شکار کرتے ہیں اُن کے خلاف ناجائز شکار کے حوالے سے اقدامات کرنا ہیں۔‘‘

نعیم ڈار کا کہنا تھا کہ جنگلی حیات کو سب سے زیادہ نقصان غیر قانونی شکار کے باعث ہوا کیوں کہ اُن کے بقول شکار کے اصولوں کے منافی بغیر تفریق کے جانوروں کو مارا جاتا ہے۔

اگرچہ پاکستان بھر میں غیر قانونی شکار پر پابندی ہے اور اس کے لیے سزائیں بھی تجویز ہیں لیکن ناقدین کے بقول بظاہر ان قوانین پر موثر عمل درآمد نہیں کروایا جا رہا ہے۔

لیکن پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے عہدیداروں کے مطابق حکومت نے اس مرتبہ یہ فیصلہ کیا ہے کہ جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے شکار پر پابندی کے فیصلے کی خلاف ورزی کرنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔
XS
SM
MD
LG