رسائی کے لنکس

خیبر ایجنسی میں خودکش دھماکا، سات ہلاک


فائل فوٹو

فائل فوٹو

وادی تیراہ خیبر ایجنسی کا دو افتادہ علاقہ ہے جہاں شدت پسند سرگرم ہیں اور اس علاقے میں پاکستانی فورسز فضائیہ کی مدد سے جنگجوؤں کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتی آئی ہیں۔

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کی وادی تیراہ میں بدھ کو ایک خودکش بم دھماکے میں کم از کم سات افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔

قبائلی انتظامیہ کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ یہ خودکش دھماکا پیر میلہ کے علاقے میں کیا گیا۔

اطلاعات کے مطابق علاقے میں امن کمیٹی کا اجلاس جاری تھا اور حملہ آور نے اس کے قریب پہنچ کر اپنے جسم سے بندھے بارودی مواد میں دھماکا کردیا۔ تاہم علاقے تک ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کی رسائی نا ہونے کی وجہ سے مصدقہ معلومات حاصل نہیں ہو سکی ہیں۔

وادی تیراہ خیبر ایجنسی کا دو افتادہ علاقہ ہے جہاں شدت پسند سرگرم ہیں اور اس علاقے میں پاکستانی فورسز فضائیہ کی مدد سے جنگجوؤں کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتی آئی ہیں۔

خیبر ایجنسی کی وادی تیراہ کی سرحدیں دو دیگر قبائلی علاقوں کرم اور اورکزئی ایجنسی سے بھی ملتی ہیں اور تقریباً 100 کلومیٹر پر پھیلی اس وادی کا بیشتر حصہ جنگلات سے ڈھکا ہوا ہے۔

تین قبائلی علاقوں کے سنگم پر واقع یہ وادی عسکری اعتبار سے بھی انتہائی اہم ہے کیوں کہ کرم اور اورکزئی میں موجود سکیورٹی فورسز کو رسد کی ترسیل کے لیے جو راستے استعمال کیے جاتے ہیں اُن کو محفوظ بنانے کے لیے تیراہ کی چوٹیوں پر فوج کا کنڑول ضروری ہے۔

پاکستانی فوج نے یہاں سے عسکریت پسندوں کے صفائے کے لیے پہلے بھی کئی بار کارروائیاں کی ہیں۔

اُدھر قبائل علاقے مہمند ایجنسی کی تحصیل صافی میں مسلح افراد کے حملے میں مقامی امن کمیٹی کا رکن ہلاک ہو گیا۔ حکام کے مطابق منگل کی رات امن کمیٹی کی چوکی پر حملہ کیا گیا۔

اس قبائلی علاقے میں امن کمیٹی کے رضا کارروں نے کئی چوکیاں قائم کر رکھی ہیں۔ اس سے قبل بھی ممہند ایجنسی میں امن کمیٹی کے رضا کاروں، انسداد پولیو سے وابستہ افراد اور سکیورٹی فورسز پر حملے کیے جاتے رہے ہیں۔

دریں اثنا اطلاعات کےمطابق خیبر پختونخواہ کے جنوبی ضلع ہنگو کے مضافاتی علاقے میں سکیورٹی فورسز کے سرچ آپریشن کے دوران یہاں چھپے مشتبہ شدت پسندوں نے فائرنگ کر دی۔

حکام کے مطابق جوابی کارروائی میں دو شدت پسند مارے گئے تاہم اس بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔

XS
SM
MD
LG