رسائی کے لنکس

کوئٹہ کے قریب نیٹو کے آئل ٹینکروں پر حملہ، ایک شخص ہلاک


بلوچستان میں نیٹو کےلیے ایندھن لے جانے والے قافلوں پر پہلے بھی حملے ہو چکے ہیں۔

بلوچستان میں نیٹو کےلیے ایندھن لے جانے والے قافلوں پر پہلے بھی حملے ہو چکے ہیں۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے یہ حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے اور دھمکی دے رکھی ہے کہ یہ کارروائیاں اُس وقت تک جاری رہیں گی جب تک افغانستان میں موجود غیر ملکی افواج کے لیے پاکستان کے راستے سپلائی کا سلسلہ ختم نہیں کیا جاتا۔

نامعلوم مسلح افراد نے بدھ کو کوئٹہ کے قریب نیٹو کے ایک ٹرمینل پر حملہ کر کے وہاں کھڑے38 ٹینکروں کو آگ لگا دی جو افغانستان میں تعینات غیر ملکی افواج کے لیے ایندھن لے کر جارہے تھے۔

یہ واقعہ فجر کی نماز سے کچھ دیر پہلے صوبائی دارالحکومت کے نواحی علاقے اختر آباد میں پیش آیا ۔ پولیس نے اس حملے میں گولی لگنے سے ایک شخص کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی ہے ۔

عینی شاہدین کے مطابق حملہ آورگاڑیوں پر سوارتھے جنہوں نے ٹرمینل میں داخل ہوکر اندھا دھند فائرنگ کر کے وہاں موجود افراد کو بھاگنے پر مجبور کردیااورآئل ٹینکروں کو آگ لگا دی۔ مقامی حکام نے بتایا ہے کہ 11 ٹینکر مکمل طور پر جل گئے اور 14 کوجزوی نقصان پہنچا۔

فائربریگیڈ کے عملےکو آگ بجھانے میں کئی گھنٹے لگے جبکہ اس دوران ٹرک ڈرائیور13ٹینکروں کو ٹرمینل سے باہر نکالنے میں کامیاب ہو گئے۔

اسلام آباد کے قریب نیٹو کے آئل ٹینکروں پر حملے میں تین افراد ہلاک اور 20 سے زائد گاڑیاں جل کر راکھ ہوگئیں۔

اسلام آباد کے قریب نیٹو کے آئل ٹینکروں پر حملے میں تین افراد ہلاک اور 20 سے زائد گاڑیاں جل کر راکھ ہوگئیں۔

واضح رہے کہ خیبر ایجنسی میں طورخم کے راستے نیٹو کے لیے رسد کا سامان افغانستان لے جانے والے قافلوں پر پاکستان نے تقریباََ ایک ہفتہ قبل پابندی لگا دی تھی لیکن جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں سرحدی شہر چمن کے راستے سپلائی کا یہ سلسلہ بغیر کسی رکاوٹ کے جاری ہے۔

پاکستانی حکام نے طورخم کے راستے نیٹو کی سپلائی لائن کوگزشتہ جمعرات کو اس وقت معطل کردیا جب غیر ملکی افواج کے ایک ہیلی کاپٹرنے کرم ایجنسی میں افغان سرحد کے قریب سرحدی چوکی پر میزائل حملہ کرکے تین پاکستانی سکیورٹی اہلکاروں کو ہلاک کردیا ۔

پاکستان کی طرف سے بظاہر احتجاجاََ سرحد کی بندش کے فیصلے کے بعد سے اب تک نیٹو کے لیے ایندھن اور دیگر ضروری سامان لے جانے والے ٹرکوں کے قافلوں پر کم ازکم چھ حملے کیے جاچکے ہیں۔

ان واقعات میں چھ افراد بھی ہلاک ہوگئے ہیں۔ ان میں اسلام آباد کے قریب اتوار اور پیر کی شب کو کیا جانے والا حملہ بھی شامل ہے جس میں 20 سے زائد آئل ٹینکر نذر آتش کردیے گئے جبکہ مسلح افراد کی فائرنگ سے تین ٹرک ڈرائیور بھی ہلاک ہو گئے تھے۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے یہ حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے اور دھمکی دے رکھی ہے کہ یہ کارروائیاں اُس وقت تک جاری رہیں گی جب تک افغانستان میں موجود غیر ملکی افواج کے لیے پاکستان کے راستے سپلائی کا سلسلہ ختم نہیں کیا جاتا۔


XS
SM
MD
LG