رسائی کے لنکس

نیٹو آئل ٹینکروں پر حملے میں تین ہلاک


اسلام آباد کے قریب نیٹو آئل ٹینکروں کو لگی آگ بجھانے کی کوششیں

اسلام آباد کے قریب نیٹو آئل ٹینکروں کو لگی آگ بجھانے کی کوششیں

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پیر کو برسلز میں نیٹو کے سیکرٹری جنرل اینڈرس فو ء راسمسن سے ملاقات کی ۔ مسٹر راسمسن نے پاکستانی سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار اور ساتھ ہی امید ظاہر کی کہ طورخم کے راستے نیٹو کے لیے سامان رسد کی ترسیل جلد بحال ہوجائے گی۔

نیٹو کے لیےایندھن لے جانے والے آئل ٹینکروں پر دارالحکومت اسلام آبا د کے قریب ایک حملے میں کم از کم تین افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے۔

پولیس افسران نے جائے وقوعہ پر صحافیوں کو بتایا کہ لگ بھگ ایک درجن مسلح افراد نے اٹک آئل ریفائنری کے باہر تیل بھروانے کے لیے قطار میں کھڑے ٹینکروں پر اتوار اور پیر کی درمیانی شب دھاوا بول کر انھیں آگ لگا دی۔

حملہ آوروں نے آئل ٹینکروں کو نذر آتش کرنے سے پہلے وہاں موجود محافظوں اور دوسرے عملے کو بھاگنے پر مجبور کرنے کے لیے خاصی دیر تک اندھا دھند فائرنگ کی۔ اس واقعہ میں ہلاک و زخمی ہونے والے افراد زیادہ تر ٹرک ڈرائیور اور اُن کے ساتھی بتائے گئے ہیں۔

فائر بریگیڈ کے عملے نے جائے وقوعہ پرپہنچ کر مسلسل کئی گھنٹو ں کی جدوجہد کے بعد آگ پر قابو پالیا تاہم زیادہ تر ٹینکر جل کرراکھ بن گئے۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق جو افراد ہلاک یازخمی ہوئے انھیں گولیا ں لگی ہیں۔ پولیس نے پانچ مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر واقعہ کی تفتیش شروع کردی ہے۔

افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کے لیے پاکستان کے راستے خوراک ،تیل اور فوجی سازوسامان لے جانے والے قافلوں پرچار روز کے دوران یہ تیسرا حملہ ہے۔

جمعہ کو جنوبی صوبہ سندھ کے شکار پور کے علاقے سے گزرنے والے نیٹو کے ایک قافلے پر مسلح افراد نے حملہ کر کے د و درجن سے زائد ٹرکوں کو نذر آتش کردیا تھا۔ اُسی روز بلوچستان میں نیٹوکے ایک آئل ٹینکر کو آگ لگا نے کے واقعہ میں ٹرک ڈرائیور اور اس کا ایک ساتھی بھی ہلاک ہوگئے تھے۔

شکار پور میں نذر آتش کیے جانے والے آئل ٹینکروں کے پاس ایک پاکستانی سکیورٹی اہلکار

شکار پور میں نذر آتش کیے جانے والے آئل ٹینکروں کے پاس ایک پاکستانی سکیورٹی اہلکار

کالعدم تحریک ِطالبان پاکستان کے ترجمان اعظم طارق نےاسلام آباد اور سندھ میں نیٹو کے قافلوں پر حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔انھوں نے ذرائع ابلا غ کے نمائندوں کو نامعلوم مقام سے ٹیلی فون کر کےمستقبل میں بھی ایسے حملے کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی سرزمین کو نیٹو افواج کو رسد بھیجنےکے لیے استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

چند ماہ قبل دارالحکومت کے مضافاتی علاقے ترنول کے قریب ایک حملے میں نیٹو کو سامان سپلائی کرنے والے لگ بھگ ایک سو ٹرکوں کو مسلح حملہ آوروں نے نذر آتش کردیا تھا۔

پاکستانی علاقوں میں نیٹو کے ہیلی کاپٹروں کی بمباری کے حالیہ واقعات خاص طور پرکرم ایجنسی میں ایک سرحدی چوکی پر کیے گئے حملے میں تین سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد پاکستان نے اتحادی افواج کو سامان سپلائی کرنے والے قافلوں کو طورخم کے راستے افغانستان جانے سے روک دیا تھا اور یہ پابندی پانچویں روز بھی برقرار ہے۔

پاکستانی حکام کا موقف ہے کہ نیٹو کے قافلوں پر پابندی سلامتی کے خدشات کے پیش نظر لگائی گئی ہے اور حالات جونہی بہتر ہوں گے یہ پابندی ختم کردی جائے گی۔ لیکن اسلام آباد کے قریب ہونے والا تازہ حملہ نیٹو کے قافلوں کی افغانستان روانگی میں مزید تاخیر کا باعث بن سکتا ہے۔

پیر کے روز ایک نجی ٹی وی چینل ڈان نے پاکستانی چیک پوسٹ پر نیٹو کے میزائل حملے کی ویڈیو فلم نشر کی ہے جس میں واضح طور پر دو ہیلی کاپٹروں کو پاکستان کی فضائی حدود میں پرواز کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔

فلم کے دوسرے منظر میں پاکستانی پوسٹ سے دھواں اٹھتا دکھائی دیتا ہے اور کچھ دیر بعد اس حملے میں زخمی ہونے والے سرحدی محافظوں کو سٹریچر پر ڈال کر طبی امداد کے لیے دوسرے مقام پر منتقل کیا جارہا ہے۔

ویڈیو فلم میں میزائل حملے سے کچھ دیر قبل بظاہر نیٹو کے دو طیاروں کو پاکستانی فضائی حدود میں پرواز کرتے بھی دکھایا گیاہے۔ پاکستانی حکام نے فوری طور پر اس ویڈیو فلم پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ نیٹو اور پاکستانی فوج کے عہدے داروں پر مشتمل ایک ٹیم مشترکہ طور پر نیٹو ہیلی کاپٹروں کے اس حملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔

پاک افغان سرحد پر کھڑے نیٹوکے سپلائی ٹرک

پاک افغان سرحد پر کھڑے نیٹوکے سپلائی ٹرک

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پیر کو برسلز میں نیٹو کے سیکرٹری جنرل اینڈرس فو ء راسمسن سے ملاقات کی ۔ مسٹر راسمسن نے پاکستانی سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار اور ساتھ ہی امید ظاہر کی کہ طورخم کے راستے نیٹو کے لیے سامان رسد کی ترسیل جلد بحال ہوجائے گی۔

شاہ محمود قریشی نے ایک نجی پاکستانی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سپلائی کی بحالی میں کسی طرح رکاوٹ نہیں بننا چاہتا۔’’ہم اپنا تعاون جاری رکھیں گے مگر اس قیمت پر نہیں کہ ہماری سرحدوں کی خلاف ورزی ہو، ہماری پوسٹ پر حملے ہوں، یہ ہمارے لیے قابل قبول نہیں‘‘۔

واضح رہے کہ افغانستان میں تعینات تقریباََ ایک لاکھ پچاس ہزار بین الاقوامی افواج کو سامان اور ایندھن کی زیادہ تر سپلائی خیبر ایجنسی میں طورخم اور بلوچستان میں چمن کے راستے کی جاتی ہے۔


XS
SM
MD
LG