رسائی کے لنکس

ہمیں سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی تک غیر امتیازی رسائی ہونی چاہئیے: گیلانی


سرکاری بیان میں صدر اوباما کی طرف سے جوہری مواد کی حفاظت کےمطالبے کا خیرمقدم کیا گیا، اور امید ظاہر کی گئی کہ سربراہی اجلاس عالمی سطح پر جوہری سلامتی کے کلچر کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہوگا

پاکستان نے پیر کے روز جوہری سلامتی کےسربراہی اجلاس میں شریک عالمی رہنماؤں کے سامنے اِس بات کا اعادہ کیا کہ نیوکلیئر سلامتی کے عزم کو یقینی بنایا جائے گا، اور ساتھ ہی ملکی توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے پیشِ نظر، سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی تک غیر امتیازی رسائی کا مطالبہ کیا۔

یہ بات پیر کے روز واشنگٹن میں شروع ہونے والی دو روزہ جوہری سربراہی کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں پاکستان کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہی گئی ہے۔

بیان میں صدر اوباما کی طرف سے نیوکلئیر مواد کی سکیورٹی کے مطالبے کا خیر مقدم کیا گیا، اور اِس امید کا اظہار کیا گیا کہ سربراہی اجلاس عالمی سطح پر جوہری سلامتی کے کلچر کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہوگا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ‘پاکستان پچھلے 35سالوں سے نیوکلئیر پاور پلانٹس چلانے کا تجربہ رکھتا ہے۔ تجربہ کار اور پیشہ ور افرادی قوت کے حامل اور مؤثرجوہری تحفظ اور سلامتی کے کلچر کی بدولت ، پاکستان بین الاقوامی سطح پر سول نیوکلیئر تعاون کے حصول کی کوششوں میں شامل ہونے کی پوری اہلیت رکھتا ہے۔’

سربراہی اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت، وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کر رہے ہیں۔ اجلاس میں 47ممالک کے اعلیٰ سطح کے سربراہان شرکت کر رہے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ: ‘بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے، ہم تمام متعلقہ فورم پرزور دیتے ہیں کہ پاکستان کو پُر امن مقاصد کے لیے نیوکلیئر ٹیکنالوجی کی بغیر امتیاز کے رسائی فراہم کی جائے۔’

بیان میں ماحولیاتی تبدیلی کے چیلنج سے نبر د آزما ہونے کے لیے پاکستان کی طرف سے جوہری ذرائع سے بجلی کی پیداوار میں بین الاقوامی مفاداوراعادےکے مطابق، حمایت کا اظہار کیا گیا۔

پاکستان، نیوکلیائی توانائی حاصل کرنے کے لیے درکار اعلیٰ سطح کا ایندھن پیدا کرنے والا ملک ہے، اور اِس پوزیشن میں ہے کہ جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے کےمقرر کردہ تحفظ کے معیار کے مطابق جوہری ایندھن کی خدمات میسر کر سکے، اور جوہری ایندھن کے انشقاق کے غیر امتیازی عمل میں شامل ہوسکے۔

جوہری سلامتی کے سلسلے میں پاکستان کا کہنا تھا کہ وہ تکنیکی اور افرادی وسائل ، حفاظت کےاصول اور نیوکلیئر ہتھیاروں، نیوکلیئر مواد، تنصیبات اور اثاثوں کی سیکورٹی کو مزید بہتر اور جدید بنانے کی کوششوں کو جاری رکھے گا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اپنی قومی پالیسیوں اور ضروریات کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی فرائض کے مطابق، پاکستان عالمی برادری سے تعاون جاری رکھے گا۔

پاکستان نے عالمی سربراہوں کو بتایا کی اُس کی نیوکلیئر پالیسی سکیورٹی کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ہے، جس میں کم سے کم لیکن قابلِ بھروسہ دفاعی صلاحیت کو ملحوظِ خاطر رکھا جاتا ہے، لیکن ساتھ ہی کہا کہ وہ جنوبی ایشیا میں ہتھیاروں کی کھلے عام دوڑ کے خلاف ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے مابین بامعنی اور جاری رہنے کی بنیاد پر ہونےوالے مذاکرات وقت کی اہم ضرورت ہے ، جو تمام معاملات پر ہوں ، جِن میں جوہری معاملے پر اعتاد سازی کے اقدامات بھی شامل ہیں۔

XS
SM
MD
LG