رسائی کے لنکس

مذہبی رہنماؤں کی فریقین سے فوری جنگ بندی کی اپیل


مولانا سمیع الحق

مولانا سمیع الحق

مولانا سمیع الحق نے کہا کہ جنگ سے کبھی امن نہیں ہو سکتا۔ ’’فریقین مذاکراتی عمل میں کوئی رکاوٹ پیدا نا ہونے دیں۔‘‘

پاکستان میں مذہبی رہنماؤں کے ایک اجتماع میں طالبان اور حکومت سے فوری طور پر جنگ بندی کی اپیل کی گئی ہے۔

پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں ہفتہ کو علماء اور مشائخ کانفرنس کے بعد مشترکہ اعلامیے میں شرکاء نے کہا کہ ملک کو درپیش بحران کا حل صرف اور صرف مذاکرات ہی سے ممکن ہے۔

حکومت سے مذاکرات کے لیے طالبان کی نامزد کردہ کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق کی سربراہی میں اس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس کے بعد ایک مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا۔

مولانا سمیع الحق نے کہا کہ جنگ سے کبھی امن نہیں ہو سکتا۔ ’’فریقین مذاکراتی عمل میں کوئی رکاوٹ پیدا نا ہونے دیں۔‘‘

اس سے قبل حزب مخالف کی دوسری بڑی جماعت تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے بھی شدت پسندوں سے مذاکرات پر زور دیتے ہوئے فریقوں سے جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔

ہفتہ کو لاہور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے ذریعے ملنے والے امن کے موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور ان کے بقول طاقت کے استعمال سے دہشت گردی مزید بڑھے گی۔

’’دس سال کے ملٹری آپریشنز کے نتیجے کو دیکھتے ہوئے جس میں دہشت گردی اور بڑھ گئی ہے، میں سمجھتا ہوں کہ اس ملک کو مذاکرات کو پورا موقع دینا چاہیئے اور جو لوگ شور مچاتے ہیں کہ مذاکرات نہیں ہونے چاہیئں اور (کہتے ہیں کہ) مارو تو مار تو دس سال سے رہے ہیں۔‘‘

انھوں نے متنبہ کیا کہ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن سے دہشت گردی میں مزید اضافہ ہو گا۔

’’کوشش کریں کہ پہلے مذاکرات پوری طرح ہو جائیں اوراگر مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں تو (اس صورت میں تو قوم لڑنے کو تیار ہے۔‘‘

عمران خان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں تو طاقت کے استعمال کا راستہ موجود ہے لیکن ان کے بقول اگر فوجی آپریشن کی ناکامی کے بعد مذاکرات کیے جاتے ہیں تو پھر حکومت کے لیے ’’یہ بہت کمزور پوزیشن ہو گی۔‘‘

ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ملک کے اقتصادی مرکز کراچی میں جمعرات کو پولیس بس پر ہونے والے بم حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان نے قبول کرتے ہوئے اسے اپنے ساتھیوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کا ردعمل قرار دیا تھا۔ اس حملے میں 13 پولیس اہلکار ہلاک اور 40 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔

حکومت اور طالبان کی نامزد کردہ مذاکراتی کمیٹیوں کی جمعہ کو ہونے والی ملاقات میں امن کے خلاف ہونے والی سرگرمیوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ امن دشمن کارروائیوں سے مذاکراتی کوششوں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

حکومت کی تشکیل کردہ کمیٹی کا کہنا تھا کہ خلاف امن سرگرمیوں کے ہوتے ہوئے امن مذاکرات جاری رکھنا مشکل ہوگا۔

دریں اثناء طالبان کی نامزد کردہ کمیٹی کے ارکان کی طرف سے یہ بیان بھی آیا ہے کہ انھیں امید ہے ایک دو روز میں ’’جنگ بندی‘‘ سے متعلق مثبت پیغام سامنے آئے گا۔
XS
SM
MD
LG