رسائی کے لنکس

دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن کا اعلان


وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ پارلیمنٹ کی موجودگی میں فیصلے سڑکوں، چوراہوں اور میدانوں میں کیے جانے لگیں۔ ’’کسی کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ جتھہ بندیوں کے ذریعے ریاستی نظام کو یرغمال بنا لے۔‘‘

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے ملک میں موجودہ سیاسی کشیدگی سے متعلق قوم سے خطاب میں کہا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ 2013ء کے انتخابات کے بارے میں لگائے گئے الزامات کی تفتیش کے لیے سپریم کورٹ کا تین رکنی کمیشن تشکیل دیا جائے۔

’’اس مقصد کے لیے حکومت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو ایک درخواست کر رہی ہے کہ و ہ عدالت عظمی کے تین جج صاحبان پر مشتمل ایک کمیشن تشکیل دیں جو الزامات کی مکمل چھان بین کے بعد اپنی حتمی رائے دے۔‘‘

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس اقدام کے بعد کسی احتجاج کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔

اپنے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ پارلیمان کے ہوتے ہوئے فیصلے سڑکوں پر کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

’’پارلیمنٹ، پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام کی نمائندگی کرتی ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ اس پارلیمنٹ کی موجودگی میں فیصلے سڑکوں، چوراہوںاور میدانوں میں کئے جانے لگیں۔‘‘

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ایک ایسے وقت جب اُن کی حکومت ماضی کی کمزوریوں سے نجات حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہے کہ کچھ عناصر ’’کھوکھلے نعروں‘‘ کی بنیاد پر احتجاجی سیاست کی راہ پر چل نکلے ہیں۔

واضح رہے کہ قومی اسمبلی میں عددی اعتبار سے حزب مخالف کی دوسری بڑی جماعت تحریک انصاف انتخابات میں مبینہ دھاندلیوں کے خلاف سراپا احتجاج ہے جب کہ ایک اور مذہبی و سیاسی جماعت عوامی تحریک ’انقلاب مارچ‘ کا اعلان کر چکی ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 2013ء کے انتخابات پہلی بار اتفاق رائے سے مقرر کیے گئے چیف الیکشن کمشنر کی نگرانی میں ہوئے اور بعض معمولی شکایات کے باوجود اُنھیں ملکی تاریخ کے سب سے شفاف انتخابات قرار دیا گیا۔

اُنھوں نے کہا کہ حکومت انتخابی اصلاحات کے ایجنڈے پر قائم ہے۔

’’تمام پارلیمانی جماعتوں کے 33 ارکان پر مشتمل یہ کمیٹی قائم ہو چُکی ہے اور اِس نے اپنا کام شروع کر دیا ہے۔ حکومت اس کمیٹی کی متفقہ سفارشات پر پورے صدقِ دل سے عمل کرے گی۔ اس مقصد کے لیے قانون بدلنا پڑا تو بدلیں گے۔ آئین میں ترمیم کرنا پڑی تو کریں گے۔ الیکشن کمیشن اور نگران حکومتوں کا ڈھانچہ بدلنا پڑا تو بدلیں گے۔‘‘

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے لیے اُن کے دروازے کھلے ہیں۔

’’میں ملکی سیاسی قیادت کی مشاورت سے ہر طرح کے مذاکرات اور ہر قسم کی بات چیت کے لیے تیار ہوں۔ بعض محترم رہنماﺅں کی پیش رفت پر میں نے کھلے دل کے ساتھ معاملات کو بات چیت سے حل کرنے پر آمادگی ظاہر کی اور اُن کی تجاویز بھی تسلیم کر لیں۔‘‘

وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ کسی کو انارکی پھیلانے اور آئینی بندوبست سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

’’کسی کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ جتھہ بندیوں کے ذریعے ریاستی نظام کو یرغمال بنا لے۔ کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ کھلے عام قتل و غارت گری کا درس دے۔ کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی کہ مذہب کی آڑ میں لوگوں کو دوسروں کی گردنیں کاٹنے پر اُکسائے۔‘‘

عمران خان

عمران خان

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ایک بار پھر وزیراعظم کے مستعفی ہونے کے مطالبے کو دہراتے ہوئے کہا کہ وہ لانگ مارچ ضرور کریں گے۔

XS
SM
MD
LG