رسائی کے لنکس

پاکستان میں پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد میں نمایاں کمی


فائل فوٹو

فائل فوٹو

پاکستان میں 2014ء کے دوران پولیو سے 306 بچے متاثر ہوئے تھے جو گزشتہ 14 سالوں کے دوران اس وائرس سے ایک سال کے دوران متاثر ہونے والے بچوں کی سب سے بڑی تعداد تھی۔

پاکستان میں رواں سال پولیو سے متاثر ہونے والے بچوں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے۔

اس بہتری کی ایک وجہ ملک کے قبائلی علاقوں میں جاری فوجی آپریشنز میں ملنے والی کامیابیاں ہیں جن کے باعث اُن علاقوں میں بھی بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے۔

گزشتہ چند برسوں کے دوران شورش پسندی کی وجہ سے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں تمام بچوں کو پولیو سے بچاؤ کی ویکسین نہیں پلائی جا سکی تھی۔

رواں سال یکم جنوری سے اب تک ملک میں پولیو وائرس سے 24 بچے متاثر ہوئے، جب کہ گزشتہ سال اسی عرصے کے دوران یہ تعداد 84 تھی۔

پاکستان میں 2014ء کے دوران پولیو سے 306 بچے متاثر ہوئے تھے جو گزشتہ 14 سالوں کے دوران اس وائرس سے ایک سال کے دوران متاثر ہونے والے بچوں کی سب سے بڑی تعداد تھی۔

پولیو وائرس کے باعث پاکستان کو عالمی ادارہ صحت کی سفارش کردہ سفری پابندیوں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

پاکستان کے صدر ممنون حسین نے جمعرات کو کہا کہ پولیو وائرس سے نمٹنے کے لیے محنت سے کوششیں کی جا رہی ہیں۔

’’یہ بدقسمتی ہے کہ پولیو کو بنیاد بنا کر پاکستان پر پابندیاں لگا ئی گئیں لیکن یہ فراموش کر دیا گیا کہ اِس مرض کے پھیلاؤ کے ذمہ دار ہم نہیں بلکہ وہ عناصر ہیں جن کی وجہ سے خطے میں بدامنی،دہشت گردی اور خون ریزی عام ہوئی لیکن میں اپنی قوم اور دنیا پر واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ ہمیں اپنے بچے عزیز ہیں اور ہم انھیں موت کے منہ میں نہیں جانے دیں گے۔‘‘

اُنھوں نے عالمی برادری سے کہا کہ وہ اس وائرس کے خاتمے کے لیے پاکستان سے تعاون کریں۔

’’اسی لیے ہم نے ہمیشہ عالمی برداری سے اپیل کی ہے کہ پاکستان کو پولیو کے سلسلے میں ناکردہ جرم کی سزا نہ دی جائے۔‘‘

بیرونی دنیا میں پولیو وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کی غرض سے پاکستان پر عالمی ادارہ صحت کی سفارش کردہ سفری پابندیوں کا نفاذ گزشتہ سال یکم جون سے ہوا تھا، جس کے تحت پاکستان سے بیرون ملک سفر کرنے والے تمام مسافروں کے لیے پولیو سے بچاؤ کی ویکسینیشن کا کارڈ پیش کرنا لازمی قرار دیا گیا۔ اس زمرے میں بچے، بالغ، خواتین اور بزرگ بھی شامل ہیں۔

پاکستان کا شمار دنیا کے ان تین ملکوں میں بھی ہوتا ہے جہاں پولیو وائرس پر تاحال پوری طرح سے قابو نہیں پایا جاسکا ہے۔ دیگر دو ملکوں میں نائیجیریا اور افغانستان شامل ہیں۔

XS
SM
MD
LG