رسائی کے لنکس

دیگر ملکوں کی نسبت پاکستان میں پولیو کیسز 14 گنا زیادہ ہیں: عالمی ادارہ صحت


عالمی ادارہ صحت کے پاکستان میں سربراہ ڈاکٹر مشیل تھائرین نے وائس آف امریکہ سے ایک انٹرویو میں بتایا کہ اس سال پاکستان میں دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں پولیو وائرس کے رپورٹ ہونے والے کیسز 14 گنا زیادہ ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے پاکستان میں سربراہ ڈاکٹر مشیل تھائرین نے وائس آف امریکہ سے ایک انٹرویو میں بتایا کہ پاکستان میں پولیو وائرس سے متاثرہ بچوں کے اعداد و شمار تشویشناک حد تک زیادہ ہیں اور اگر اس کے تدارک کے لیے فوری اقدامات نا کیے گئے تو صورت حال مزید گمبھیر ہو سکتی ہے۔

’’اس سال پاکستان میں دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں پولیو وائرس کے رپورٹ ہونے والے کیسز 14 گنا زیادہ ہیں۔ وہ ممالک جہاں پولیو وائرس اب بھی موجود ہے، وہاں پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد دس سے بارہ ہے۔‘‘

پاکستان میں اس سال پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد 171 ہو گئی ہے جب کہ انسانی جسم کو اپاہج کر دینے والے اس وائرس سے گزشتہ سال 93 بچے متاثر ہوئے تھے۔

ڈاکٹر مشیل کا کہنا تھا کہ یہ صورت حال نا صرف عالمی ادارہ صحت اور حکومت پاکستان بلکہ عالمی برادری کے لیے بھی تشویشناک ہے۔

’’ہمارے پاس (پولیو وائرس کے خاتمے کے لیے) قومی اور صوبائی سطح کے لیے حکمت علمی ہے۔ ہم نے اس ہفتے کے دوران (بچوں کے عالمی ادارے) یونیسیف، حکومت اور تمام شراکت داروں سے ملاقاتیں کیں۔۔۔ آئندہ نو سے بارہ ماہ کے لیے ایک منصوبہ عمل درآمد کے لیے تیار ہے جس کے تحت یہ ہدف مقرر کیا گیا ہے کہ 2015ء کے اواخر تک ملک میں پولیو کا کوئی بھی (نیا) کیس نا ہو۔‘‘

ڈبلیو ایچ او کے پاکستان میں سربراہ کا کہنا ہے کہ پولیو وائرس کے خاتمے کے لیے اس بیماری سے بچاؤ کے قطرے پلانے والوں کو تمام علاقوں تک رسائی چاہیئے جس کے لیے مربوط سکیورٹی انتظامات چاہیئں۔

ڈاکٹر مشیل نے کہا کہ ’’(انسداد) پولیو کی ٹیموں اور ان کی حفاطت پر مامور سیکورٹی عملے پر حملے تشویشناک ہیں، اور (ایسے حملے) پولیو کے خاتمے کے حوالے سے بڑی رکاوٹ ہیں۔‘‘

واضح رہے کہ رواں سال کے اوائل میں عالمی ادارہ صحت ’ڈبلیو ایچ او‘ نے کہا تھا کہ پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کا دارالحکومت پشاور دنیا میں پولیو وائرس کا سب سے بڑا ’گڑھ‘ ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق ملک میں اس مرض سے متاثرہ بچوں کے جائزے سے پتہ چلا ہے کہ ’نوے فیصد پولیو وائرس کا تعلق ’جینیاتی طور‘ پشاور سے جڑا ہوا ہے۔

اس سال بھی پولیو وائرس سے متاثرہ سب سے زیادہ بچوں کا تعلق صوبہ خیبر پختونخواہ اور اس سے ملحقہ قبائلی علاقوں سے ہے۔ حکام کے مطابق ان علاقوں میں پولیو وائرس پر قابو نا پا سکنے کی بنیادی وجوہات میں انسداد پولیو ٹیموں پر حملے اور بعض قبائلی علاقوں تک اُن کی رسائی نا ہونا ہے۔

بیرونی دنیا میں پولیو وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کی غرض سے عالمی ادارہ صحت کی سفارش کے مطابق یکم جون سے پاکستان سے بیرون ملک سفر کرنے والے تمام مسافروں کے لیے پولیو کی ویکسینیشن کا کارڈ پیش کرنا لازمی قرار دیا جا چکا ہے۔

جب کہ پاکستان میں ایک ماہ تک مقیم رہنے والے غیر ملکیوں کو بھی یہاں سے واپسی کے لیے سفر سے پہلے پولیو سے بچاؤ کی ویکسین پینا ہوگی۔

پاکستان کا شمار دنیا کے ان تین ملکوں میں بھی ہوتا ہے جہاں پولیو وائرس پر تاحال پوری طرح سے قابو نہیں پایا جاسکا ہے۔ دیگر دو ملکوں میں نائیجیریا اور افغانستان شامل ہیں۔

XS
SM
MD
LG