رسائی کے لنکس

حکمران پیپلز پارٹی اور اپوزیشن مسلم لیگ (ن) کے قائدین کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف تنقیدی بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔

حزب اختلاف کی جماعت کے سربراہ نواز شریف نے ایک مرتبہ پھر وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے عہدے سے دستبرار ہو جائیں۔

’’وزیراعظم ابھی تک اس منصب پر بیٹھے ہوئے ہیں، (جو) غیر آئینی ہے غیر قانونی ہے۔ لیکن اگر غیر قانونی وزیرِ اعظم کوئی چیز (اپنی مرضی سے) کرنا چاہے گا ... تو ہم یہ نہیں ہونے دیں گے۔‘‘

مسلم لیگ (ن) کا موقف ہے کہ وزیرِ اعظم گیلانی کو توہین عدالت کے مقدمے میں سزا کے بعد وہ ملک کے اعلیٰ ترین انتظامی منصب پر فائز رہنے کی اہلیت کھو بیٹھے ہیں۔ اس لیے ان کے خلاف نواز شریف نے احتجاجی تحریک بھی شروع کر رکھی ہے۔

لیکن وزیرِ اعظم گیلانی نے جمعہ کو اپنی ایک اتحادی جماعت مسلم لیگ (ق) کے قائدین سے ملاقات کے بعد لاہور میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا کہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے میں انھیں نا اہل قرار نہیں دیا گیا اور ان کو غیر جمہوری طریقے سے نہیں ہٹایا جا سکتا۔

’’وزیراعظم کو ہٹانا ہو تو عدم اعتماد (کی تحریک) لائی جا سکتی ہے۔ اگر کسی میں جرات ہے، طاقت ہے اور کوئی دلیر آدمی ہے تو اس آپشن کو استعمال کرنا چاہیئے۔ شازش کے ذریعے جب حکومتیں جاتی ہیں وہ ملک کا نقصان ہوتا ہے۔‘‘

وزیراعظم گیلانی نے مسلم لیگ (ن) کے قیادت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ صوبہ پنجاب میں برسر اقتدار رہتے ہوئے وہ مرکزی حکومت کے خلاف تحریک نہیں چلا سکتے۔

’’اپنی نشستوں کو چھوڑ دیں اور پھر عوام میں آ جائیں۔ اپوزیشن بن کے مقابلہ کریں تو شاید ان کو عوام سن لے۔ مگر حکومت کے خلاف اگر (صوبائی) حکومت کوئی اقدام کرے گی تو وہ بغاوت کے زمرے میں آئے گا۔‘‘

ملک میں جاری توانائی کے بحران بالخصوص طویل دورانیے کی بجلی کی لوڈشیڈنگ کے بارے میں وزیرِ اعظم گیلانی نے کہا کہ ان کی حکومت کی اولین ترجیح اس مسئلے پر قابو پانا ہے اور آئندہ بجٹ میں اس پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

XS
SM
MD
LG