رسائی کے لنکس

پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت اور حزب اختلاف کی جماعت مسلم لیگ (ن) کے درمیان تنقیدی بیانات کا سلسلہ جاری ہے اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کے مقدمے میں سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ کی جانب سے سزا سنائے کے جانے بعد اپوزیشن پارٹٰی کے قائدین ان سے مسلسل یہ مطالبہ کر رہے کہ وہ اپنے عہدے سے دستبردار ہو جائیں۔

لیکن وزیراعظم گیلانی اور حکومتی نمائندوں کا اصرار ہے کہ انھیں غیر آئینی طریقے سے نہیں ہٹایا جاسکتا اور حکومت اپنی مدت پوری کرے گی۔

وزیراعظم گیلانی نے ہفتہ کو لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران ایک بار پھر حزب مخالف کے مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ منتخب وزیراعظم ہیں اور انھیں ہٹانے کے لیے آئینی طریقہ اپنانا ہوگا۔

’’وہ چاہتے ہیں کہ کسی نہ کسی طریقے سے غیر آئینی طریقے سے وزیراعظ کو ہٹایا جائے مگر میں ان کو بتایا چاہتا ہوں کہ ہم اگر آئے ہیں کامیاب ہو کر، چور دروازے کے ذریعے نہیں آئے، عوام کی طاقت سے آئے ہیں اور جب تک عوام کی طاقت ہمارے ساتھ ہوگی ہم یہ حکومت کرتے رہیں گے۔‘‘

وزیراعظم نے کہا کہ انھوں نے وزارت خزانہ کو ہدایت کی ہے کہ اس بجٹ میں نوجوانوں کے لیے ایک لاکھ نوکریوں کے مواقع پیدا کریں۔ ان کے بقول حکومت اپنے آخری سال میں عوام کو ریلیف یا سہولت دینا چاہتی ہے۔

پنجاب میں برسر اقتدار اور مرکز میں حزب مخالف کی جماعت مسلم لیگ (ن) وزیراعظم گیلانی اور ان کی حکومت پر تنقید میں سرفہرست ہے اور اس نے حالیہ دنوں میں اپنی احتجاجی مہم کو ملک بھر میں جلسوں کے انعقاد کی صورت میں تیز کر رکھا ہے۔

تاہم وزیراعظم گیلانی کا کہنا ہے کہ جب تک مسلم لیگ (ن) اسمبلیوں سے مستعفی نہیں ہو گی اسے حکومت مخالف احتجاجی مہم میں کامیابی نہیں مل سکتی۔ وزیراعظم یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے میں انھیں نا اہل قرار دیئے جانے کا ذکر نہیں اور اگر اپوزیشن انھیں ہٹانا چاہتی تو اسے عدم اعتماد کی تحریک لانا ہو گی۔

XS
SM
MD
LG