رسائی کے لنکس

حکمران اتحاد کے اجلاس میں نگران وزیراعظم کے ناموں پر غور


(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے مشترکہ طور پر اس اجلاس کی صدارت کی جس میں نگران وزیراعظم کے حوالے سے مختلف ناموں پر غور کیا گیا۔

پاکستان میں آئندہ انتخابات اور نگران حکومت کے قیام سے متعلق معاملات پر سیاسی جماعتوں میں مشاورت کے عمل میں حالیہ دنوں میں تیزی آئی ہے۔

حزب اختلاف کی مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان اس بارے میں مشاورت جاری ہے اور منگل کی شب پیپلز پارٹی کی زیر قیادت حکمران اتحاد میں شامل جماعتوں کا ایک اہم اجلاس بھی ہوا۔

صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے مشترکہ طور پر اس اجلاس کی صدارت کی جس میں نگران وزیراعظم کے حوالے سے مختلف ناموں پر غور کیا گیا، لیکن سرکاری طور پر اس بارے میں کسی نام کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔

سرکاری میڈیا کے مطابق صدارتی ترجمان سینیٹر فرحت اللہ بابر نے بتایا کہ اجلاس میں تمام اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں نے آزادانہ، منصفانہ اور بروقت انتخابات کے عزم کو دہرایا ہے۔

اجلاس میں وزیر قانون فاروق نائیک بھی شریک تھے اور انھوں نے نگران وزیراعظم کی تقرری کے حوالے سے آئینی طریقہ کار بتاتے ہوئے کہا کہ صدر مملکت، وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف کی طرف سے متفقہ طور پر پیش کردہ شخصیت کو بطور نگران وزیراعظم نامزد کریں گے۔

آئین کے تحت قومی اسمبلی کی تحلیل ہو جانے کے تین دن کے اندر اگر نگران وزیراعظم کے نام پر اتفاق رائے نا ہوا تو وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف آٹھ رکنی پارلیمانی کمیٹی کو دو دو افراد کے نام تجویز کریں گے۔

اسپکیر قومی اسمبلی یہ کمیٹی تشکیل دیں گی جو سبکدوش ہونے والی قومی اسمبلی یا سینیٹ کے آٹھ ارکان پر مشتمل ہو گی اور اس میں حزب اقتدار و اختلاف کی مساوی نمائندگی ہو گی۔
XS
SM
MD
LG