رسائی کے لنکس

طاہرالقادری نے وفاقی اور صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل کے لیے 48 گھنٹوں کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے کہا کہ اُس کے بعد وہ کسی بھی اقدام کے ذمہ دار نہیں ہوں گے۔

حکومت کے خلاف احتجاج کرنے والی جماعت پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہرالقادری نے وفاقی اور صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل کے لیے 48 گھنٹوں کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے کہا کہ اُس کے بعد وہ کسی بھی اقدام کے ذمہ دار نہیں ہوں گے۔

پیر کو پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے اپنے حامیوں اور کارکنوں سے خطاب میں اُن کا کہنا تھا کہ اُن کے دھرنے کو 12 دن ہو رہے ہیں اور اب اُن کا احتجاج حتمی مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔

’’اس نظام کا بستر لپیٹ دو، حکومتیں ختم کر دوں، گھروں کو چلے جائیں۔‘‘

اُنھوں نے کہا کہ دو دن کی مہلت اس لیے دی ہے کہ تاکہ حکمران ’سمیٹ کر جا سکیں۔‘

اُدھر تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے بھی ایک بار پھر وزیراعظم کے استعفے کے مطالبے کو دہرایا۔

تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے کوششوں میں بھی تیزی دیکھی گئی۔

جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے پیر کو تحریک انصاف کے مرکزی قائدین سے اسلام آباد میں ملاقات کی جس میں حکومت سے مذاکرات کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا۔

سراج الحق نے اس اُمید کا اظہار بھی کیا کہ حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات سے مسئلے کے حل کے لیے کوئی ’درمیانی راہ‘ نکال لی جائے گی، تاہم اُنھوں نے اس کی وضاحت نہیں کی۔

عمران خان مئی 2013ء کے انتخابات میں بڑے پیمانے پر مبینہ دھاندلی کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔

تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ وہ دھاندلیوں کے الزامات کی عدالتی تحقیقات کرانے کو تیار ہے اور اس سلسلے میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے تین رکنی کمیشن کی تشکیل کی درخواست پہلے ہی کی جا چکی ہے۔

حکومت کے وزراء یہ کہتے آئے ہیں کہ وزیراعظم نواز شریف مستعفی نہیں ہوں گے اور حکومت کے اس موقف کی پارلیمان میں موجود سیاسی جماعتیں بھی حمایت کر چکی ہیں۔

XS
SM
MD
LG