رسائی کے لنکس

تحریک انصاف کے اراکین کی دوسری جماعتوں میں شمولیت


ایک امریکی جائزہ رپورٹ کے مطابق عمران خان کی سیاسی جماعت کی مقبولیت میں کمی واقع ہوئی ہے

ایک امریکی جائزہ رپورٹ کے مطابق عمران خان کی سیاسی جماعت کی مقبولیت میں کمی واقع ہوئی ہے

ناقدین افتخار گیلانی اور اس سے قبل شیرین مزاری کی پارٹی سے علیحدگی کو تحریک انصاف کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دے رہے ہیں۔

پاکستان کے سیاسی افق پر حال ہی میں تیزی سے ابھرنے والی عمران خان کی جماعت تحریک انصاف کے کئی اہم رہنماء حالیہ ہفتوں میں پارٹی چھوڑنے کا اعلان کر چکے ہیں۔

حال ہی میں تحریک انصاف میں شامل ہونے والے ممتاز قانون دان افتخار گیلانی نے بھی جمعہ کو عمران خان کی قیادت پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے حزب مخالف کی بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا اعلان کیا ہے۔

ناقدین افتخار گیلانی اور اس سے قبل شیرین مزاری کی پارٹی سے علیحدگی کو تحریک انصاف کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دے رہے ہیں۔ لیکن عمران خان کی جماعت کے ایک سینیئر رہنما احسن رشید کا کہنا ہے کہ اس سے ان کی پارٹی کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔

’’لوگ چھوڑتے بھی رہتے ہیں اور نئے لوگ شامل بھی ہوتے رہتے ہیں۔ انھوں نے پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی اور جب انھوں نے دیکھا کہ ان کی سوچ اور تحریک انصاف کے نظریے میں فرق ہے تو کچھ لوگ چھوڑ کر بھی جا رہے ہیں۔‘‘

تاہم دوسری طرف مسلم لیگ (ن) کے ترجمان سینیٹر مشاہد اللہ کہتے ہیں کہ ان جماعت کی مقبولیت میں اضافے کے باعث افتخار گیلانی اور دیگر کئی سیاستدان ان کے ساتھ شامل ہو رہے ہیں۔

’’یقینی طور پر جب لوگ شامل ہوتے ہیں تو تقویت تو ملتی ہے، جب ایسے لوگ شامل ہوتے ہیں جو ہمارا ٹکٹ لے کر منتخب ہو سکتے ہیں تو پارٹی کو اس سے قوت تو ملتی ہے۔‘‘

امریکہ میں قائم انٹرنیشنل رپبلیکن انسٹیٹیوٹ (آئی آر آئی) کی ایک تازہ جائزہ رپورٹ کے مطابق عمران خان کی سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی عوامی مقبولیت میں 22 فیصد کمی جبکہ مسلم لیگ (ن) کی مقبولیت میں تین اعشاریہ سات فیصد اضافہ ہوا ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG