رسائی کے لنکس

پٹھان کوٹ حملے کی تحقیقات، پاکستانی ٹیم رواں ماہ بھارت جائے گی


پاکستانی مشیر خارجہ اور بھارتی وزیر خارجہ (فائل فوٹو)

پاکستانی مشیر خارجہ اور بھارتی وزیر خارجہ (فائل فوٹو)

پٹھان کوٹ واقعے کے باعث دونوں ہمسایہ ایٹمی قوتوں کے مابین خارجہ سیکرٹری سطح کے جنوری کے وسط میں طے شدہ مذاکرات بھی معطل ہوگئے جو تاحال بحال نہیں ہو سکے۔

بھارت کے سرحدی فضائی اڈے پر ہوئے دہشت گرد حملے کی تحقیقات کے لیے پاکستان کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم رواں ماہ کے اواخر میں بھارت جائے گی۔

اس بات کا اعلان جمعرات کو بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے پاکستانی مشیر خارجہ سرتاج عزیز کے ساتھ نیپال کے سیاحتی مقام پوکھارا میں ہونے والی ملاقات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا۔

"مجھے خوشی ہے کہ جو اتنے دنوں سے آپ انتظار کر رہے تھے پوچھ رہے تھے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کب آئے گی تو وہ تاریخیں طے ہو گئی ہیں۔ 27 مارچ کی رات کو (پاکستان کی) مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بھارت پہنچے گی اور 28 تاریخ سے اپنا کام شروع کرے گی۔"

پٹھان کوٹ میں واقع بھارتی فضائیہ کے اڈے پر دو جنوری کو دہشت گردوں نے حملہ کر کے سات اہلکاروں کو ہلاک کر دیا تھا اور بھارتی حکام کا کہنا تھا کہ یہ دہشت گرد مبینہ طور پر سرحد پار پاکستان سے آئے تھے۔

پاکستان نے اس ضمن میں فراہم کی گئی معلومات کی روشنی میں نہ صرف اپنے ہاں ان دہشت گردوں کے مبینہ معاونین کے خلاف مقدمہ درج کیا بلکہ تحقیقات کے لیے ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جسے بھارت جا کر اس واقعے کی تحقیقات کرنی تھیں۔ تاہم ٹیم کے بھارت جانے سے متعلق تاخیر ہوتی آئی ہے۔

پاکستانی مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے پریس کانفرنس میں تحقیقاتی ٹیم کے بھارت جانے کو دونوں ملکوں کے تعلقات کے لیے ایک حوصلہ افزا پیش رفت قرار دیا۔

"اس دفعہ جس طریقے سے پٹھان کوٹ کے معاملے کو لے کر چلا گیا جس طرح سے تعاون ہوا ہے اور مشترکہ تحقیقاتی ٹیم وہاں جا رہی ہے اس کے میرا خیال ہے اس سارے معاملے میں مثبت نتائج نکلیں گے۔"

پٹھان کوٹ واقعے کے باعث دونوں ہمسایہ ایٹمی قوتوں کے مابین خارجہ سیکرٹری سطح کے جنوری کے وسط میں طے شدہ مذاکرات بھی معطل ہوگئے جو تاحال بحال نہیں ہو سکے۔ لیکن دونوں ملکوں کے عہدیدار مذاکرات جلد شروع ہونے کا عندیہ دیتے ہیں۔

دونوں ملکوں کے مابین دیرینہ تنازعات چلے آرہے ہیں جو کہ ان کے تعلقات میں کشیدگی کا باعث ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان تصفیہ طلب معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے لیے جامع مذاکرات کا آغاز 2004ء میں ہوا تھا لیکن نومبر 2008ء میں ممبئی میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کے بعد بھارت نے انھیں یک طرفہ طور پر معطل کر دیا تھا۔

ایک عرصے کے تعطل کے بعد گزشتہ دسمبر میں مذاکرات دوبارہ بحال کرنے کا اعلان کیا گیا تھا لیکن پٹھان کوٹ واقعے نے ایک بار پھر اس راہ میں رکاوٹ کا کردار ادا کیا۔

پاکستان کے سابق سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد خان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ مسائل خود بخود حل نہیں ہوتے اس کے لیے بات چیت بہت ضروری ہے اور یہ دروازہ بند نہیں ہونا چاہیے۔

"جو مسائل ہیں وہ حقیقی مسائل ہیں اور یہ خود بخود حل نہیں ہوں گے تو ان کے لیے باقاعدہ اس حمکت عملی کو استعمال کرنا ہوگا جو پوری دنیا میں استعمال ہوتی ہے، اقوام متحدہ کے میثاق میں ہے کہ مذاکرات اور بامعنی رابطوں کے ذریعے اپنے مسائل حل کیے جائیں تو اس راستے پر آنا ہوگا۔"

پاکستانی مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے جمعرات کو یہ بتایا کہ 31 مارچ کو واشنگٹن میں ہونے والی ایک کانفرنس کے موقع پر توقع ہے کہ دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم کی ملاقات ہو۔ ان کے بقول اس بارے میں فی الوقت کچھ طے نہیں لیکن امید ہے کہ یہ ملاقات ہوگی جو کہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں پیش رفت کا باعث بن سکتی ہے۔

XS
SM
MD
LG