رسائی کے لنکس

شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس میں صدر زداری کی شرکت

  • ب

شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس میں صدر زداری کی شرکت

شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس میں صدر زداری کی شرکت

شنگھائی تعاون تنظیم کا دسواں دوروزہ اجلاس جمعرات سے تاشقند میں شروع ہورہا ہے جس میں صدر آصف علی زرداری پاکستان کی نمائندگی کررہے ہیں۔ پاکستانی دفتر خارجہ کی طرف سے بدھ کے روز جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق تاشقند میں قیام کے دوران کانفرنس سے خطاب کے علاوہ صدر زرداری چین،روس اور دیگر ممبران ملکوں کے رہنماؤں سے دوطرفہ باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال بھی کریں گے۔

2001ء میں چین کے شہر شنگھائی میں قائم ہونے والی اس تنظیم کے رکن ممالک میں ر وس،چین،قازکستان،کرغزستان،تاجکستان اور ازبکستان شامل ہیں۔ پاکستان بحیثیت مبصر ملک کے اس تنظیم میں 2005ء میں شامل ہوا تھا جب کہ دیگر مبصر ملکوں میں بھارت، ایران اور منگولیا شامل ہیں۔ سری لنکا اور بیلا رس تنظیم کے مذاکراتی شراکت دار ہیں۔

شنگھائی تعاون تنظیم کے مقاصد میں خطے میں امن و استحکام کو فروغ دے کر اعتماد سازی کے عمل کو بڑھانا اور تجارت، ٹرانسپورٹیشن اور قانون کی عملداری کو یقینی بنانا بھی شامل ہے۔ لیکن حالیہ برسوں میں انسداد دہشت گردی وانتہا پسندی اور دیگر منظم جرائم جیسے مسائل بھی تنظیم کے ملکوں کی توجہ کا مرکز رہے ہیں۔

شنگھائی تعاون تنظیم میں شامل ممالک کی کل آبادی تقریباً ڈیرھ ارب افراد پر مشتمل ہے جو کہ دنیا کی کل آباد ی کا ایک چوتھائی ہے ۔ گو کہ اس تنظیم کے تحت ممبر ممالک کے مابین چھوٹے پیمانے پر فوجی مشقیں ہوتی رہتی ہیں تاہم مغربی مبصرین اسے نیٹو طرز کا ایک سکیورٹی گروپ تصورکرتے ہیں جو مغرب کو للکار سکتا ہے۔

روس خطے میں اپنے تاریخی اثرورسوخ جب کہ چین ایک ابھرتی ہوئی اقتصادی طاقت کے بل پر اس تنظیم کے اہم اور بااثر ممبرسمجھے جاتے ہیں۔ گزشتہ سال ہونے والے اجلاس میں چینی صدر ہوجن تاؤنے وسط ایشیائی ریاستوں کو عالمی مالیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے دس ارب ڈالر کی پیش کش کی تھی۔

اس سال کے اجلاس میں تنظیم کے رکن ممالک کے مابین تعاون کو مئوثر اور بہتر بنانے ، دہشت گردی و انتہاپسندی سے نمٹنے کی مشترکہ کوششوں کو فروغ دے کر خطے کی سلامتی کو یقینی بنانے کے علاوہ ، کرغزستان کی موجودہ سیاسی صورتحال، افغانستان کو منشیات کی سمگلنگ کی روک تھام کے لیے مدد فراہم کرنے جیسے معاملات زیر بحث آئیں گے۔
علاوہ ازیں اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے اقدامات کرنے کے علاوہ مشترکہ توانائی ، ذرائع آمدورفت، مواصلات اور ٹیکنالوجی کے شعبوں کی ترقی پر بھی بات چیت ہوگی۔

XS
SM
MD
LG