رسائی کے لنکس

پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیشہ وارانہ اور تکنیکی تربیت کے سربراہ غلام نبی بنگش کہتے ہیں کہ بیرون ملک پاکستانی محنت کشوں کی مانگ میں کمی آ رہی ہے جس کی بنیادی وجہ ان میں تعلیم اور تربیت کا فقدان ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ بیرون ملک ایسے محنت کشوں کی مانگ ہے جو دور حاضر کے تقاضوں کے مطابق اپنے شعبوں میں فنی مہارت رکھتے ہوں۔ اُن کے بقول پاکستانی محنت کشوں کی مانگ میں کمی ملکی معیشت کے لیے اچھا شگون نہیں ہے۔

لگ بھگ 40 لاکھ پاکستانی تارکین وطن بیرون ملک بالخصوص خلیج اور مغربی ممالک میں روزگار سے وابستہ ہیں اور ان افراد کی جانب سے ہر سال زرمبادلہ کی صورت میں بجھوائی جانی والی خطیر رقوم کو قومی معیشت کا پہیہ رواں دواں رکھنے میں کلیدی حیثیت حاصل ہے۔

سینیٹر بنگش کے بقول ملک میں افرادی قوت کے شعبے کو نظر انداز کیے جانے کے باعث دوسرے ملکوں میں روزگار کے حصول کے خواہشمند پاکستانی مشکلات سے دو چار ہیں۔

’’پاکستانیوں کو انڈیا، بنگلہ دیش، نیپال، فلپائن اور سری لنکا کی (افرادی قوت سے) ری پلیس (بدلا) جا رہا ہے، کیوں کہ ان ممالک کے عام مزدور بھی تعلیم یافتہ اور پیشہ وارانہ مہارت رکھتے ہیں۔ ہمارے لوگ ہر طرح سے جسمانی طور پر ان سے مضبوط ہیں، زیادہ کام کر سکتے ہیں لیکن ان کو کمیونیکشین (بات چیت کرنے) میں مسئلہ ہوتا ہے‘‘۔

سینیٹر عبدالنبی بنگش

سینیٹر عبدالنبی بنگش

سینیٹر بنگش کہتے ہیں کہ سعودی عرب، بحرین، متحدہ عرب امارات اور قطر سمیت دیگر ممالک میں اب بھی پیشہ وارانہ صلاحیت رکھنے والے محنت کشوں کی بہت مانگ ہے اور ان کی زیر صدارت کمیٹی مزید پاکستانیوں کو ان ممالک میں بجھوانے کے لیے ملک میں فنی تربیت فراہم کرنے والے مراکز کی استعداد کار بڑھانے پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔

رواں مالی سال کے دوران سرکاری اعدادوشمار کے مطابق سمندر پار پاکستانیوں نے لگ بھگ 14 ارب ڈالر زرمبادلہ کی صورت میں ملک میں بجھوایا ہے۔

سینیٹر غلام نبی بنگش کہتے ہیں کہ اگر بیرون ملک روزگار کے حصول کے خواہشمند افراد کو پیشہ وارانہ تربیت فراہم کی جائے تو ترسیلات زر میں دو سے تین گنا اضافہ ممکن ہے۔

’’پیشہ وارانہ مزدوروں کے لیے ہمیں بہت محنت کرنا پڑے گی اور اس میں بہت اسکوپ (آگے بڑھنے کی بہت گنجائش) ہے۔ یورپی ممالک، کینیڈا اور آسٹریلیا میں بھی ہمارے بہت لوگ ہیں۔ ابھی بھی اگر آپ دیکھیں تو زدمبادلہ یورپ سے بہت زیادہ آ رہا ہے کیوں کہ وہاں (مقیم پاکستانی) پڑھے لکھے ہیں‘‘۔

حکومت کا کہنا ہے کہ پیشہ وارانہ فنی مہارت کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت ہزاروں بے روزگار نوجوانوں کو ووکیشنل ٹریننگ فراہم کرنے کے ایک منصوبے پر کام جاری ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG